شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 77 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 77

77 حضرت امام حسین کی خواب والی شکل آنکھوں کے سامنے آ گئی۔دوسرے دن مولانا حکیم عبید اللہ صاحب در مشین پڑھنے لگے۔کتاب کھولتے ہی اس شعر پر نگاہ جاانکی۔کر بلا ئیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم اس شعر پر غور کر رہے تھے تو مہمان خانہ کے دروازہ پر نظر پڑی۔دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف تشریف لا رہے ہیں۔مولا نا بسمل صاحب اٹھ کر ملے۔جب کا بل میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت ہوئی تو مولانا سمل صاحب کی رؤیا کی تعبیر اور حضرت امام حسین کے بارہ میں شعر کا مطلب واضح ہو گیا۔(۵۵) حضرت مولوی شیر علی صاحب سے روایت ہے کہ : ایک دفعہ ایک ہندوستان کا رہنے والا مولوی قادیان آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس حاضر ہو کر کہنے لگا کہ وہ ایک جماعت کی طرف سے نمائندہ ہو کر حضور کے دعویٰ کی تحقیق کے لئے آیا ہے اور پھر اس نے اختلافی مسائل کے متعلق گفتگو شروع کر دی۔وہ گفتگو کے دوران بڑے تکلف سے خوب بنا بنا کر موٹے موٹے الفاظ استعمال کرتا تھا۔اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کچھ تقریر فرمائی تو وہ آپ کی بات کاٹ کر بولا کہ آپ کو صحیح و مہدی ہونے کا دعویٰ ہے مگر الفاظ کا تلفظ اچھی طرح ادا نہیں کرتے۔اس وقت مولوی عبد اللطیف صاحب شہید حضور کے پاس بیٹھے تھے۔ان کو مولوی کی بات پر بہت غصہ آیا اور انہوں نے اسی جوش میں اس مولوی کے ساتھ فارسی زبان میں گفتگو شروع کر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی عبد اللطیف صاحب کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا اور پھر کسی دوسرے وقت جب مولوی عبداللطیف صاحب مجلس میں موجود نہ تھے حضور نے فرمایا کہ اس وقت مولوی صاحب کو بہت غصہ آ گیا تھا اس لئے میں نے اس ڈر سے کہ وہ کہیں غصہ میں اس مولوی کو مار ہی نہ بیٹھیں مولوی صاحب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبائے رکھا تھا۔‘(۵۶)