شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 60
60 کے ایماء اور ہدایت سے میاں عبد الرحمن شاگر در شیدان کے قادیان میں شاید دو یا تین دفعہ آئے اور ہر یک مرتبہ کئی کئی مہینے تک رہے۔اور متواتر صحبت اور تعلیم اور دلائل کے سننے سے ان کا ایمان شہداء کا رنگ پکڑ گیا اور آخری دفعہ جب کا بل واپس گئے تو وہ میری تعلیم سے پورا حصہ لے چکے تھے اور اتفاقا ان کی حاضری کے ایام میں بعض کتابیں میری طرف سے جہاد کی ممانعت میں چھپی تھیں جن سے ان کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ سلسلہ جہاد کا مخالف ہے۔۔۔جب وہ مجھ سے رخصت ہو کر پشاور میں پہنچے تو اتفاقاً خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر سے جو پشاور میں تھے اور میرے مرید ہیں ملاقات ہوئی اور انہیں دنوں میں خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک رسالہ جہاد کی ممانعت میں شائع کیا تھا اس سے ان کو بھی اطلاع ہوئی اور وہ مضمون ایسا ان کے دل میں بیٹھ گیا کہ کابل میں جا کر جابجا انہوں نے یہ ذکر شروع کیا کہ انگریزوں سے جہاد کرنا درست نہیں کیونکہ وہ ایک کثیر گروہ مسلمانوں کے حامی ہیں اور کئی کروڑ مسلمان امن و عافیت سے اُن کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے ہیں۔تب یہ خبر رفتہ رفتہ امیر عبد الرحمن کو پہنچ گئی اور یہ بھی بعض شریر پنجابیوں نے جو اس کے ساتھ ملا زمت کا تعلق رکھتے ہیں اس پر ظاہر کیا کہ یہ ایک پنجابی شخص کا مرید ہے جو اپنے تئیں مسیح موعود ظاہر کرتا ہے اور اس کی یہ بھی تعلیم ہے کہ انگریزوں سے جہاد درست نہیں بلکہ اس زمانہ میں قطعاً جہاد کا مخالف ہے۔تب امیر یہ بات سن کر بہت برافروختہ ہو گیا اور اس کو قید کرنے کا حکم دیا۔تامزید تحقیقات سے کچھ زیادہ حال معلوم ہو۔آخر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ ضرور یہ شخص مسیح قادیانی کا مرید اور مسئلہ جہاد کا مخالف ہے۔تب اس مظلوم کو گردن میں کپڑا ڈال کر اور دم بند کر کے شہید کیا گیا۔کہتے ہیں اس کی شہادت کے وقت بعض آسمانی نشان ظاہر ہوئے“۔(۲۱) سید احمد نورصاحب بیان کرتے ہیں کہ مولوی عبدالرحمن خان جب آخری دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت سے واپس افغانستان آئے تو پہلے سید گاہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں حضور کی وہ تصنیفات دیں جو وہ قادیان سے لے کر آئے تھے۔اسکے بعد وہ اپنے وطن چلے گئے جو قبیلہ منگل کے علاقہ میں ہے۔اس پر