شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 44
44 پیر صاحب مانکی کا ایک شاگرد مولوی الہ دین ملا ء لنگ تھا جو خلاف قرآن وحدیث فتوے دینے میں پیش پیش تھا۔اس کی رپورٹ امیر عبدالرحمن خان کو کی گئی تو اس نے اسے شریعت کے مطابق تصفیہ کرنے کے لئے کا بل بلوایا لیکن اس نے جانے سے انکار کر دیا۔ایک مرتبہ مقامی حکام نے اسے گرفتار بھی کیا لیکن وہ دھوکہ دے کر فرار ہو گیا اور حکومت کابل سے باغیانہ زندگی گزار نے لگا۔(۵) افغانستان کے سیاسی حالات اس زمانے میں امیر عبدالرحمن خان ابن امیر محمد افضل خان ابن امیر دوست محمد خان افغانستان کا بادشاہ تھا۔اس کا تعلق ابدالی، بارک زئی، محمد زئی قبیلہ سے تھا۔۱۸۳۰ء میں ނ کابل میں پیدا ہوا۔اور کئی سال روس میں جلا وطن رہا بالآخر روسی حکومت کی مدد سے ۳۰ جولائی ۱۸۸۰ء کو افغانستان کا بادشاہ بنا لیکن انگریزوں سے تعلقات استوار کر لئے اور ان سے وظیفہ لینے لگا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مارچ ۱۸۸۲ء میں اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر اپنے مامور من اللہ اور نذیر ہونے کا اعلان فرمایا اور ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا اعلان فرمایا۔بیان کیا جاتا ہے کہ جب امیر عبدالرحمن خان کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اطلاع دی گئی تو اس نے کہا کہ : مارا عمر یا بد نہ عیسی - عیسی در زمان خود چه کرده بود که یارے دیگر خواہد کر۔یعنی ہمیں تو اس وقت حضرت عمر کی ضرورت ہے۔حضرت عیسی کی ضرورت نہیں۔حضرت عیسی نے اپنے وقت میں کیا کر لیا تھا کہ اب دوبارہ آکر کریں گے۔یہ امر نا قابل یقین ہے کہ ایک مسلمان کہلانے والے بادشاہ نے ایسا گستاخانہ کلمہ حضرت عیسی کی شان میں کہا ہو۔اگر یہ بات صحیح ہے تو یہ نہ صرف حضرت مسیح ناصرٹی پر حملہ ہے