شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 372 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 372

372 کی کبھی آپ نے مشقت نہ اٹھائی۔اللہ تعالی نے اپنے فضل سے آپ کو ہر قسم کی تنگی وهذت سے بچائے رکھا۔بظا ہر آمدنی کی کوئی صورت نہ تھی۔لوگ خود بخود آپ کی امداد کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔آپ حضرت صاحبزادہ صاحب کے مخلص دوستوں میں سے تھے۔یہ دوستی کا تعلق اس وقت پیدا ہوا جب خوست کے بدعتی فرقے حضرت صاحبزادہ صاحب کے مخالف ہو گئے کیونکہ آپ ہمیشہ قرآن وحدیث کی اشاعت میں کوشاں رہتے تھے۔اور اس کے مطابق عمل کی تلقین کرتے تھے۔بدعتی فرقے آپ کے قتل کے درپے رہتے تھے۔اس وقت بزرگ صاحب نے اپنا گھر بار چھوڑ کر اور سب تعلقات توڑ کر آپ کی صحبت میں رہنا اختیار کر لیا تھا۔جب حضرت صاحبزادہ صاحب سفر پر جاتے تو مولوی عبدالستار خان صاحب ساتھ ہوتے تھے۔جب حضرت شہید مرحوم نے کابل جا کر رہائش اختیار کی تو وہ وہاں بھی ساتھ تھے۔شہر کا بل میں افغانستان کے بڑے بڑے آدمیوں سے ان کی واقفیت پیدا ہوگئی تھی۔چنانچہ اعتماد الدوله سردار عبدالقدوس خان شاه خاصی ، مستوفی الممالک محمد حسین خان اور مرزا عبد الاحد خان کمیدان آپ سے خوب واقف تھے۔بزرگ صاحب کا قبول احمدیت آپ اپنے احمدی ہونے کے متعلق یوں بیان کرتے تھے کہ جب ابھی صاحبزادہ سید عبداللطیف تک سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ نہیں پہنچا تھا ان دنوں آپ قرآن و حدیث کا درس دیتے تھے تو بیان فرمایا کرتے تھے کہ مہدی کے آنے کا یہی زمانہ ہے کیونکہ اس کی تمام علامات پوری ہو چکی ہیں۔تعجب ہے کہ مہدی کے ظہور کی کوئی اطلاع نہیں ملی- جب انگریزوں سے افغانستان کی سرحد کی نشان دہی ہو رہی تھی ( یہ ۱۸۹۴ء کا ذکر