شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 373
373 ہے۔مرتب ) تو گورنر خوست شیر میں دل خان سرحد کے تصفیہ کے لئے جایا کرتے تھے اور ان کے ہمراہ حضرت صاحبزادہ صاحب بھی جاتے تھے۔ان دنوں ایک موقع پر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصنیف آئینہ کمالات اسلام صاحبزادہ صاحب تک پہنچی۔آپ نے اس کتاب کو پڑھ کر حضور کے دعویٰ کی تصدیق کی اور اپنے واقف کارلوگوں کو اس بارہ میں سمجھا نا شروع کر دیا۔شیریں دل خان گورنر اور ان کے عملہ کو بھی پیغام پہنچایا۔بزرگ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ سردار شیر میں دل خان اچھے آدمی تھے اور انہوں نے انکار نہیں کیا تھا بلکہ غالباً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کی تصدیق کی تھی۔اس کے علاوہ صاحبزادہ صاحب مرحوم نے سید گاہ میں اپنے چند مخلص دوستوں کو جمع کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کی اطلاع دی اور سب نے اسے مان لیا۔مولوی عبدالستار خان صاحب نے اُس وقت کچھ سوالات کئے تھے جن کے حضرت صاحبزادہ صاحب نے تسلی بخش جواب دیئے تھے۔مولوی عبدالستار خان صاحب کے چھوٹے بھائی ملا میر و صاحب اس بات پر کبھی کبھی طنز کیا کرتے تھے لیکن بزرگ صاحب فرماتے تھے کہ میں نے انکار کی وجہ سے نہیں بلکہ مزید اطمینان حاصل کرنے کے لئے کچھ باتیں پوچھی تھیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب قادیان آنے سے قبل اپنے بعض شاگردوں کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھجوایا کرتے تھے اور حضور کی خدمت میں خطوط بھی لکھتے رہتے تھے ان شاگردوں میں مولوی عبدالستار خان صاحب اور مولوی عبد الرحمن خان صاحب شامل تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنی اور اپنے بعض شاگردوں کی بیعت کے خطوط بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھ دیئے تھے۔مولوی عبدالستار خان صاحب بتایا کرتے تھے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی یہ خواہش تھی کہ وہ افغانستان سے ہجرت کر کے مع اہل و عیال قادیان آجائیں لیکن آپ کا شہید ہونا ہی مقدر تھا۔