شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 354
354 طاقت رکھتے ہو تم سے پہلے تم سے زیادہ طاقتیں رکھنے والی قو میں گذری ہیں۔جنہوں نے خدا کے راستبازوں کو نابود کرنا چاہا اور جو صداقت وہ لائے اس کو دنیا سے مٹانا چاہا۔۔۔مگر با وجود اس کے وہ راستبازوں کا وجود دنیا سے مٹا نہ سکے اور صداقت دنیا میں پھیل کر رہی۔۔اس لئے ان تجربات اور واقعات کی بناء پر اس تقریر کے ذریعہ میں آئندہ آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ طاقت اور قوت کے زمانہ میں اخلاق کو ہاتھ سے نہ دیں۔کیونکہ اخلاق اصل وہی ہیں جو قوت اور طاقت کے وقت ظاہر ہوں۔ضعیفی اور نا توانی کی حالت میں اخلاق اتنی قدر نہیں رکھتے جتنی کہ وہ اخلاق قدر رکھتے ہیں جبکہ انسان بر سر حکومت ہو۔اس لئے میں آئندہ آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ ان کو ہماری ان حقیر خدمات کے بدلے میں حکومت اور بادشاہت عطا کرے گا تو وہ ان ظالموں کے ظلموں کی طرف توجہ نہ کریں۔جس طرح ہم اب برداشت کر رہے ہیں۔وہ بھی برداشت سے کام لیں اور وہ اخلاق دکھانے میں ہم سے پیچھے نہ رہیں۔(2) قاری نو ر علی صاحب شہید یہ صوبہ کابل کے رہنے والے تھے۔تجارت کرتے تھے۔کہابی کہلواتے تھے۔یعنی ان کی دوکان کبابوں کی تھی۔ان کی قوم تاجک تھی۔ان کو امیرا امان اللہ خان کے زمانہ میں شیر پور کابل میں سنگسار کر دیا گیا۔ان کے بارہ میں قاضی القضاۃ کے فیصلہ پر عمل کیا گیا اور اسی نے سنگسار کرتے ہوئے پہلا پتھر چلایا۔مولوی عبد الحلیم صاحب شهید یہ مقام چہار آسیاب ، صوبہ کابل کے رہنے والے تھے۔ان کو امیر امان اللہ خان کے