شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 353 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 353

353 اور صداقت دنیا میں پھیلنے سے رک جائے گی بلکہ مجھے یہ خیال آتا ہے کہ امیر کی یہ بالکل بچوں کی سی حرکات ہیں۔جس طرح بچہ سکول جانے سے انکار کرتا ہے اور باپ اس کو پکڑ کر اسکول لے جاتا ہے۔کہیں وہ کا نتا ہے اور کہیں وہ لاتیں مارتا ہے اور کہیں کپڑے پھاڑتا ہے۔یہی حالت حکومت کا بل کی ہے وہ لاتیں مارتی ہے۔مگر وہ اخلاقی سکول جو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے ذریعہ کھولا گیا ہے۔اس میں اس کو ضرور داخل ہونا پڑے گا۔۔۔۔ان کو۔۔۔۔اس اخلاقی اسکول میں داخل ہوئے بغیر کوئی چارہ نہ ہوگا۔۔۔یا گورنمنٹ افغانستان کی مثال اس بیل کی ہے جو گردن پر جو ا ر کھنے سے پہلو تہی کرتا اور دولتیاں چلاتا ہے مگر آخر اس کو جوئے کے نیچے گردن رکھنی پڑے گی۔پہلے بھی آخر جوتے گئے اور یہ بھی آخر جوتے ہی جائیں گے اور خدا کا کام ان کو بھی کرنا پڑے گا۔مگر مجھے جو خیال آتا ہے وہ یہ آتا ہے۔ان کی بد بختیوں اور وحشیانہ حرکات اور بیوقوفیوں کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا ہوگا۔" مجھے جس وقت گورنمنٹ کا بل کی اس ظالمانہ اور اخلاق سے بعید حرکت کی خبر ملی۔میں اس وقت بیت الدعاء میں گیا اور دعا کی کہ الہی تو ان پر رحم کر اور ان کو ہدایت دے اور ان کی آنکھیں کھول تا کہ وہ صداقت اور راستی کو شناخت کر کے اسلامی اخلاق کو سیکھیں۔اور انسانیت سے گری ہوئی حرکات سے وہ باز آئیں میرے دل میں بجائے جوش اور غضب کے بار بار اس امر کا خیال آتا تھا کہ ایسی حرکت ان کی حد درجہ بیوقوفی ہے۔امیر اور اس کے اردگرد بیٹھنے والے گذشتہ تاریخ تو جانتے ہونگے اور تاریخی حالات اس میں انہوں نے پڑھے ہوں گے۔اگر اس سے بے خبر ہیں۔تو کم از کم مسلمان کہلانے کی حیثیت سے وہ قرآن تو پڑھتے ہونگے۔اور ان حالات کو بھی پڑھتے ہونگے کہ ظالموں نے اپنے ظلموں سے صادقوں اور راستبازوں کو ذلیل کرنا چاہا اور صداقت اور راستی کے مٹانے کے لئے۔سر سے پاؤں تک زور مارا۔مگر آخر مٹائے جانے والے وہی ہوئے جو کہ ظالم تھے۔انہوں نے اسی قرآن میں پڑھا ہو گا کہ ظالموں نے راستبازوں کی جماعت کو حقیر اور کمزور سمجھا اور اپنی قوت اور طاقت کے گھمنڈ میں ان کو ہر طرح دکھ دینے کی کوشش کی لیکن خدا نے ان کو یہی جواب دیا کہ تم کیا