شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 333 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 333

333 امیر امان اللہ خان نے اسے قبول کیا تھا۔چنانچہ اس سفارش پر عمل کرتے ہوئے امیر امان اللہ خان نے مولوی نعمت اللہ خان صاحب اور قاری نور علی صاحب اور مولوی عبد الحلیم صاحب کو سنگسار کروا دیا تھا۔اب ان ملاؤں کا انجام یہ ہوا کہ امیر امان اللہ خان نے مقصد براری کے بعد ان ملاؤں سے بھی بد عہدی کی اور ان کو گرفتار کر کے قتل کروا دیا۔سردار احمد علی جان کو امیر امان اللہ خان نے شنواریوں کی بغاوت کے رفع کرنے کے لئے لشکر دے کر سمت مشرقی بھجوایا تھا لیکن وہ با وجود پوری کوشش کے اس میں ناکام رہا اور بالآخر ہندوستان کی طرف بھاگ گیا وہاں سے پھر سمت جنوبی میں قندھار آ گیا اور امیر امان اللہ خان کی دستبرداری کے بعد اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔لیکن بچہ سقاؤ سے جنگ کر کے شکست کھا گیا اور اس کے قابو میں آ گیا۔بچہ سقا ؤ نے اس کو بھی قتل کروا دیا۔جب مولوی نعمت اللہ صاحب شہید کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلایا گیا تو ان پر کفر کا فتوی دینے والے دو ملا قاضی عبدالرحمن کو ہ دامنی اور قاضی عبدالسمیع قندھاری تھے جنہوں نے امیر امان اللہ خان کے حسب منشاء ان کے لئے سنگساری کی سزا تجویز کی تھی۔قاضی عبدالسمیع کے بارہ میں تو اب تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا لیکن قاضی عبدالرحمن کو ہ دامنی کو بچہ سقاؤ نے اپنے عہد حکومت میں ملک محسن کے ذریعہ نہایت بے رحمانہ طریق پر قتل کروا دیا۔شاہ خاصی محمد اکبر خان ۱۹۱ء کے قریب سمت جنوبی کا گورنر تھا اسی نے سردار نصر اللہ خان کی ہدایت پر امیر حبیب اللہ کے زمانہ میں سید گاہ میں حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف شہید کے تابوت کو قبر سے نکلوا کر کسی غیر معلوم جگہ پر دفن کروا دیا تھا۔یہ شخص نہایت مرتشی اور ظالم شخص تھا۔امیر امان اللہ خان کے زمانہ میں اس کو اس کے عہدے سے برطرف کیا گیا اس پر بہت سے الزام رشوت ستانی کے تھے لیکن یہ ان الزامات سے انکار کرتا رہا اور بالآخر اپنی بریت کے لئے جھوٹا حلف اٹھا گیا نتیجتا ایک مہلک بیماری اس کو لاحق ہوگئی جس سے جاں بحق ہو گیا۔امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ میں اس کے سمت جنوبی کے گورنر سردار محمد عمر خان