شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 291 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 291

291 ان تمام اقدامات سے واضح ہو جاتا ہے کہ امیر امان اللہ خان نے اپنی غیر حاضری میں اپنی حکومت کی حفاظت کے لئے تمام ممکن قدم اٹھا لئے تھے اور اب امیر بہ کمالِ اطمینانِ خاطر چند ماہ کے لئے کابل سے غیر حاضر رہ سکتا ہے۔(۷۴) روانگی از افغانستان ۱۹۲۷ء کے آخر میں امیر امان اللہ خان اپنے سٹاف اور رفقاء سفر کے ہمراہ بیرونی دوره پر براستہ قندھار، چمن ، کوئٹہ، کراچی روانہ ہوئے پھر دہلی آئے اور کچھ عرصہ دہلی رہ کر بمبئی کی بندرگاہ سے بحری جہاز راجپوتانہ کے ذریعہ یورپ روانہ ہوئے اس سفر میں انہوں نے جن ممالک کا دورہ کیا ان کے ثقافتی، سیاسی، معاشی، صنعتی اور تجارتی حالات کا بغور مطالعہ کیا اور ان امور سے تعلق رکھنے والے ادارہ جات دیکھے اور وہاں کے افسران، وزراء اور سر بر اہانِ ممالک سے گفتگو کی۔جن ممالک میں ان کو جانے کا موقعہ ملا ان میں مصر، اٹلی ، جرمنی ، فرانس، انگلستان، روس اور ترکی تھے۔ان ممالک میں جو کارروائیاں ہوئیں ان کی تفصیلات لکھنے کا تو یہ موقعہ نہیں لیکن ان ممالک میں اُن کا شان و شوکت سے استقبال ہوا اور ہر ایک حکومت نے اپنی طاقت اور حیثیت کے مطابق حق مہمان نوازی ادا کیا اور ان کی وہ عزت کی جو اس سے پہلے ایک مشرقی حاکم کے بارہ میں کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتی تھی۔ہندوستان کے سفر کے دوران امیر امان اللہ خان شاہ کابل کی طرف سے ملاؤں سے بیزاری کا اظہار اخبار الفضل ۲۳ / دسمبر ۱۹۲۷ ء لکھتا ہے : ہر میجسٹی شاہ کا بل نے سر زمین ہند میں پہلی دفعہ رونق افروز ہونے پر جو پہلی تقریر کراچی میں فرمائی اس میں جہاں رعایا پروری اور اپنی ذاتی حیثیت کے متعلق نہایت زریں خیالات کا اظہار کیا وہاں اس طبقہ اور گروہ کا خاص طور پر ذکر کیا جو ہر ملک اور ہر علاقہ میں