شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 290 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 290

290 وزارت داخلہ میں منتقل کر دیا۔وزارتِ عالیہ میرمحمد ہاشم خان ایک سید مدبر کے ہاتھوں میں تھی جو بادشاہ کے بڑے خیر خواہ شمار ہوتے تھے۔ایک حفاظتی تدبیر یہ کی گئی کہ تمام ڈول خارجہ (جہاں جہاں کا دورہ امیر امان اللہ خان نے کرنا تھا) سے وعدہ لیا گیا کہ اگر امیر امان اللہ خان کی سیاحت بیرون کے دوران افغانستان میں کوئی شورش رُونما ہو تو وہ امیر امان اللہ خان کو کم سے کم عرصہ میں افغانستان کی سرحد پر پہنچانے کا اہتمام کریں گے۔اب صرف علیا حضرت یعنی امیر امان اللہ خان کی والدہ صاحبہ کا وجود باقی تھا جو شروع حکومت میں اپنے بیٹے کے کاروبار حکومت میں بہت دخیل رہی تھیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ امیر امان اللہ خان بہت تجربہ کار ہو چکا تھا اور اپنی والدہ صاحبہ کے دخل کو نا پسند کرنے لگا تھا اگر چہ امان اللہ خان اپنی والدہ کا احترام بجالانے میں کوئی کوتا ہی نہ کرتا تھا لیکن اپنی حکومت کے کام از خود ادا کرنا پسند کرتا تھا۔اس وجہ سے اس کی والدہ کی اس سے نا چاقی ہو گئی تھی۔اور جس وقت امیر امان اللہ خان بیرونی سیاحت کی تیاریوں میں مصروف تھا وہ اس سے کچھ ناراض تھیں۔وہ یہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا اپنی بادشاہت کو خطرہ میں ڈال کر کہیں باہر جائے۔اس لئے اوّل اوّل تو انہوں نے زبان سے روکنے کی کوشش کی اور جب امیر امان اللہ خان نہ مانا تو یہ دھمکی دی کہ وہ اس کی غیر حاضری میں دارالسلطنت کا بل میں نہیں رہیں گی بلکہ اپنے آبائی شہر قندھار جا کر سکونت اختیار کر لیں گی لیکن بعد ازاں وہ اپنے بیٹے کے بے حد اصرار پر کابل میں رہنے پر راضی ہو گئیں۔بادشاہ کا مقصد اصرار کر کے ان کو اپنی غیر حاضری میں کا بل رہنے پر مجبور کرنے میں یہ تھا کہ اگر اُس کی عدم موجودگی میں اس کی بادشاہت پر کوئی آڑا وقت آیا تو اس کی صاحب رسوخ و احترام والدہ اپنے بیٹے کی بادشاہت کی حفاظت میں تمام مخالفوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑی ہو جائیں گی۔