شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 269
269 گورنمنٹ کو ترقی یافتہ ہونے اور مذہبی رواداری کے لئے حاصل ہو سکتی تھی۔ہمیں احمد یہ جماعت کے مختلف مرکزوں سے احتجاج کے جلسے ہونے کی متواتر رپورٹیں آ رہی ہیں اور ہمیں اس بات پر ہر گز حیرانگی نہیں کہ ان کے لئے یہ واقعہ ایک گہرے صدمے اور بے چینی کا موجب ہے۔۔۔۔۔افغانستان کو احمدیوں کے خلاف جو یہ عناد ہے اس کا سمجھنا ایک مشکل امر ہے۔خصوصاً جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ فرقہ جو احمد یوں کے نام سے ہندوستان میں موسوم ہے ایک امن پسند اور اشتعال انگیزی سے بالکل متبر ا فرقہ ہے (۵۲) اخبار وکیل نے اپنے ۲۷ ستمبر ۱۹۲۴ ء کے پرچہ میں مولوی نعمت اللہ خان کی سنگساری کے صحیح واقعات کا علم ہونے پر بہت جرات سے ایک پر زور لیڈنگ آرٹیکل شائع کیا اور اظہار حق اور تائید صداقت بہت واشگاف الفاظ میں کی۔اس نے لکھا: - ”ہم نے وکیل کی کسی گذشہ اشاعت میں ایک احمدی کو سنگسار کیا گیا“ کے عنوان سے ایک نوٹ سپر د قلم کیا تھا۔جس میں افغانستان کے روشن دل اور آزاد خیال حکمران سے محض احمدیت کی بناء پر کسی کو رجم جیسی انتہائی سزا دینا مستعبد بتایا تھا۔افغانستان کے طول و عرض میں ہندوؤں کے مذہبی جذبات وحیات کا احترام کرتے ہوئے گاؤ کشتی کے امتناع ، سکھوں کو رسوم مذہبی کے ادا کرنے میں کافی آزادی وغیرہ روا دارانہ امور کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا تھا کہ اسلامی فرقوں سے اس درجہ سخت گیری کا برتاؤ کیونکر روا رکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ یہ خیال بھی ظاہر کیا تھا کہ شائد تبلیغ احمدیت کی وجہ سے جسے افغانی قوم کی اشتعال پذیر طبائع کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔یہ سنگساری عمل میں آئی ہوگی۔یہ جو کچھ ہم نے لکھا تھا اس حسن ظن کی بناء پر لکھا تھا جو ہمارے دل میں شہر یار افغانستان کی نسبت جاگزین ہے۔لیکن ہنوز کوئی مقامی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔