شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 268
268 بے گناہ اور معصوم بھائی نعمت اللہ خان کا قتل بھی ہے جو باغیوں کی اس افواہ کی تردید کے لئے کیا گیا ہے کہ امیر کا بل احمدی ہو گیا ہے۔لیکن اسے یادر ہے یہ خونِ ناحق اسے تباہی اور بربادی کے گڑھے سے بچانے کا موجب نہیں ہو گا۔بلکہ اور زیادہ قریب کر دے گا اور وہ دن آئے گا جب اس قسم کی ستم رانیوں کا اسے دردناک خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔(۵۱) سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور نے اپنے ۱۵ ستمبر ۱۹۲۴ء کے پرچہ میں جو کچھ انگریزی زبان میں شائع کیا۔اس کا اردو تر جمہ درج ذیل ہے: افغان عدالتوں کا اصل فیصلہ جس میں مولوی نعمت اللہ خاں احمدی کو سزائے موت کے قابل مجرم قرار دیا گیا ہے ہم نے گذشتہ اشاعت میں ایک افغان اخبار سے نقل کیا تھا۔یہ فیصلہ جس کے اصلی ہونے میں شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں۔مقدمہ کو پہلے سے بھی بدتر رنگ میں ظاہر کرتا ہے اور ان لوگوں کے لئے جو افغانستان کی ترقی اور نئی روشنی سے متاثر ہونے کے معتقد ہیں۔یقیناً بہت بڑی نا امیدی کا باعث ہوگا۔اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ سزا یافتہ مولوی امیر کے خلاف ضرور کسی پولیٹکل سازش میں مبتلا پایا گیا ہو گا۔مگر فیصلہ عدالت میں اس قسم کے کسی الزام کا ہرگز ذکر نہیں بلکہ اسے صرف اس کے مذہبی خیالات اور عقائد کی بناء پر مجرم قرار دیا گیا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ سارا فیصلہ ایک ایسے جاہلانہ مذہبی تعصب سے لبریز نظر آتا ہے۔کہ جس کے امکان کا تصور بھی بیسوی صدی میں مشکل سے ہوسکتا ہے۔یہ بات بے شک باور کی جاسکتی ہے کہ اس مقدمہ کی تہہ میں ایک پولیٹکل تحریک تھی یعنی در حقیقت اس کا موجب وہ عنصر ہوا جس کو خوش کرنے اور جس کی مخالفت کو موافقت سے بدلنے کا امیر کو خاص فکر ہے۔کیونکہ اس کی اصلاحات پر ان بے حد متعصب لوگوں کی طرف سے خلاف شرع اسلام ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اگر امیر کا منشاء اپنی سلطنت کے ان بڑھتے ہوئے متعصب لوگوں کو خوش کرنا ہی تھا تو یہ بات اس نے اس نیک نامی کو قربان کر کے حاصل کی ہے جو اس کی