شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 256 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 256

256 چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی افغانستان جانے پر آمادگی سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی لندن سے اپنے ایک مکتوب میں جو احباب جماعت کے نام ہے تحریر فرماتے ہیں : میں نہایت خوشی سے اعلان کرتا ہوں کہ بغیر اس تجویز کے علم کے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اپنے نام کو اس لئے پیش کیا ہے۔اور لکھا ہے کہ میں صرف نام دینے کے لئے ایسا نہیں کرتا بلکہ پورا غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مجھے اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے۔‘ (۴۶) شہداء کابل کی قربانیوں کی یاد تازور کھنے کے بارہ میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشادات ہمیں ان لوگوں کی یاد کو تازہ رکھنا چاہئے۔تا کہ ہمارے تمام افراد میں قربانی کا جوش پیدا ہو۔میری رائے ہے کہ جس قدر سلسلہ کے شہید ہوں۔ان کے نام ایک کتبہ پر لکھوائے جائیں۔اور اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کی طرف لگوایا جائے تا کہ وہ ہراک کی دعا میں شامل ہوتے رہیں اور ہراک کی نظر ان کے ناموں پر پڑتی رہے۔فی الحال اس کتبہ پر مولوی شہزادہ عبداللطیف صاحب اور مولوی نعمت اللہ صاحب کا نام ہو۔اگر آئندہ کسی کو یہ مقام عالی عطا ہو تو اس کا نام بھی اس کتبہ پر لکھا جائے۔اسی طرح ایک کتاب تیار ہو۔جس میں تاریخی طور پر تمام شہداء کے حالات جمع ہوتے رہیں۔تا آئندہ نسلیں ان کے کارناموں پر مطلع ہوتی رہیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔( ۴۷ ) ١٩٢٤ء حضرت خلیفت مسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی لندن سے قادیان کو واپسی مولوی نعمت اللہ خان کی شہادت کے بارہ میں جماعت کو نصائح اور افغانستان میں تبلیغ کا پروگرام حضور کی خدمت میں قادیان میں مقیم احمدی افغانستان کا سپاس نامہ اور اس پر حضور کے ارشادات