شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 250
250 کی گئی۔مگر انھوں نے جواب دیا کہ جس چیز کو میں حق جانتا ہوں اس کو زندگی کی خاطر نہیں چھوڑ سکتا۔جس وقت ان کو گلیوں میں پھرایا جا رہا تھا اور ان کی سنگساری کا اعلان کیا جا رہا تھا۔اس وقت کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ بجائے گھبرانے کے مسکرا رہے تھے۔گویا کہ ان کی موت کا فتویٰ نہیں بلکہ عزت افزائی کی خبر سنائی جا رہی ہے۔جب ان کو میدان میں سنگسار کرنے کے لیے لے گئے تو انھوں نے اس وقت ایک خواہش کی جسے افغان حکام نے منظور کر لیا۔اور ہم اس کے لیے اس کے ممنون ہیں۔۔۔یہ خواہش تھی کہ اس دنیا کی زندگی کے ختم ہونے سے پہلے ان کو ایک دفعہ اپنے رب کی عبادت کرنے کا پھر موقع دیا جائے۔حکام کی اجازت ملنے پر انھوں نے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بعد ان کو کہا کہ اب میں تیار ہوں جو چاہو سو کر و۔کابل کا نیم سرکاری اخبار جس سے شہادت کے واقعات کا اکثر حصہ لیا گیا ہے اپنی ستمبر کی اشاعت میں حالات شہادت لکھتے ہوئے لکھتا ہے کہ مولوی نعمت اللہ بڑے زور سے احمدیت پر پختگی سے مصررہا اور جس وقت تک اس کا دم نہیں نکل گیا سنگساری کے وقت بھی وہ اپنے ایمان کو بآواز بلند ظاہر کرتا رہا۔۔۔ایسوسی ایٹڈ پریس پشاور کا ۴ ستمبر کا تار جو ہندوستان کے سب اخبارات میں چھپا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ سنگساری سے پہلے مولوی نعمت اللہ خان شہید کو قید خانہ میں بھی کئی قسم کے عذاب دیے گئے۔”ہندوستان کا سب سے وسیع الاشاعت اینگلو انڈین روزانہ پاؤ نیر لکھتا ہے کہ یہ معاملہ معمولی نہیں بلکہ نہایت اہم ہے وہ اپنے تازہ ایشو میں یہ بھی لکھتا ہے کہ امیر نے نعمت اللہ خان کو صرف آرتھوڈوکس پارٹی کے خوش کرنے کے لیے قتل کیا ہے۔کابل کی آمدہ خبروں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گورنمنٹ کا بل نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی احمدیوں سے ایسا ہی معاملہ کرے گی۔اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے ملک کا قانون مرتد سے ایسے ہی سلوک کا مطالبہ کرتا ہے۔