شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 212
212 اس چٹھی کے جواب میں وزیر خار جیہ افغانستان کی ایک چٹھی مئی ۱۹۲۱ ء میں آئی۔جس میں لکھا تھا کہ احمدی اسی طرح اس ملک میں محفوظ ہیں جس طرح دوسرے وفا دار لوگ ، ان کو احمدیت کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ دی جاوے گی اور اگر کوئی احمدی ایسا ہے جسے مذہب کی وجہ سے تکلیف دی جاتی ہو تو اس کا نام اور پتہ لکھیں۔گورنمنٹ فوراً اس کی تکلیف کو دور کر دے گی۔اس کے کچھ عرصہ بعد خوست کے علاقہ میں بعض احمد یوں کو پھر تکلیف ہوئی تو احمد یہ جماعت کی شملہ کی لوکل شاخ نے سفیر کا بل متعینہ ہندوستان کو اس طرف توجہ دلائی اور ان کی معرفت ایک درخواست گورنمنٹ کا بل کو بھیجی جس کا جواب مؤرخہ ۲۴ مئی ۱۹۲۳ء کو سفیر کا بل کی معرفت ان کو یہ ملا کہ وہ احمدی امن کے ساتھ گورنمنٹ کے ماتحت رہ سکتے ہیں۔ان کو کوئی تکلیف نہیں دے سکتا۔باقی وفا دار رعایا کی طرح ان کی حفاظت کی جائے گی۔اس خط میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ یہ معاملہ ہر میجسٹی امیر کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔اور ان کے مشورہ سے جواب لکھا گیا ہے۔شملہ کی لوکل احمدی انجمن کی درخواست میں احمد یہ عقائد کا بھی تفصیلاً ذکر کیا گیا تھا اور گورنمنٹ افغانستان نہیں کہ سکتی کہ اسکو پہلے احمدی عقائد کا علم نہ تھا۔ނ اس طرح متواتر یقین دلانے پر کابل اور اس کے گرد کے احمدی ظاہر ہو گئے۔مگر کابل۔ڈور علاقوں کے لوگ پہلے کی طرح مخفی ہی رہے۔کیونکہ گورنمنٹ افغانستان کا تصرف ان علاقوں پر ایسا نہیں کہ اس کی مرضی پر پوری طرح عمل کیا جائے۔وہاں لوگ قانون اپنے ہاتھ ہی میں رکھتے ہیں اور بارہا حکام بھی لوگوں کے ساتھ مل کر کمزوروں پر ظلم کرتے رہتے ہیں۔ہم خوش تھے کہ افغانستان میں ہمارے لیے امن ہو گیا ہے (۱۱) امیر امان اللہ خان کی ابتدائی زمانہ میں حکومت افغانستان کی جانب سے یقین دہانی کے خطوط کہ احمدیوں کو افغانستان میں آزادی ہے اور حکومت ان کی حفاظت کرے گی ۱۹۲۱ء : - (۱) جماعت احمدیہ کے مرکز قادیان سے صدرانجمن احمدیہ کی نظارت امور عامہ کی