شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 184
184 چونکہ حکومت کے خیر خواہ تھے اور سرکاری آدمیوں کے ساتھ علاقہ میں پھر کر بغاوت فروکر نے کی کوشش کر رہے تھے اس لئے باغیوں نے ہماری عدم موجودگی میں ہمارے مکانات جلا دیئے اور باغات کاٹ ڈالے لیکن چونکہ بغاوت احمدیت کے خلاف کی گئی تھی اور ہم احمدی مشہور تھے اس لئے حکومت نے سید میرا کبر صاحب سیدا بوالحسن قدسی ، شیخ عبد الصمد صاحب اور امین گل صاحب کو پکڑ کر قید کر دیا۔سات دن کے بعد مؤخر الذکر دو شخصوں کو تو رہا کر دیا اور باقی کو قید رکھا گیا۔ہم 19 ماہ تک قید میں رہے۔اس اثناء میں چونکہ درگئی کے علاقہ میں امن تھا۔کیونکہ اس علاقہ کے لوگ امیر کے حامی تھے اس لئے باقی ماندہ خاندان کو بھی اس علاقہ میں پہنچا دیا گیا۔ان دنوں صاحبزادہ محمد طیب جان صاحب آزاد تھے ان کی کوشش اور سعی سے خوست کے سر بر آوردہ لوگوں نے حکومت کو اس قسم کی درخواست دی جو پہلے بھی ہمارے بارہ میں حکومت کو کر چکے تھے۔اس پر وزیر حربیہ نے ایک طرف تو یہ حکم لکھ دیا کہ ان کو رہا کر دیا جائے دوسری طرف اس مقامی حاکم کو جس کی نگرانی میں ہمیں رکھا گیا تھا یہ لکھا کہ انہیں رہا نہ کرو بلکہ میرے پاس بھجوا دو میں ان کو کابل لے جاؤں گا اس حاکم کا نام گل محمد تھا۔اور وزیر تربیہ نے یہ بھی ہدایت دی کہ صاحبزادہ محمد طیب جان اور صاحبزادہ عبد السلام جان کو بھی گرفتار کر لو مع ان کے تمام خاندان کے۔جب حاکم کو یہ دو متضا حکم ملے تو اس نے صاحبزادہ محمد طیب جان سے کہا کہ میں وزیر حربیہ سے دریافت کرتا ہوں کہ ان دو مختلف باتوں کا کیا مطلب ہے؟ کس پر عمل کیا جائے ان کا جواب آنے پر میں جواب دوں گا۔یہ حالت دیکھ کر صاحبزادہ محمد طیب جان صاحب راتوں رات وہاں سے چل کر اپنے لواحقین کے پاس درگئی پہنچ گئے وہاں انہوں نے دیکھا کہ ان کے بھائی صاحبزادہ عبدالسلام کی گرفتاری کے لئے تین فوجی سوار آئے ہوئے ہیں۔اس پر انہوں نے تمام خاندان سمیت نکل کر کہیں اور جانے کی تیاری شروع کر دی۔جو بھائی قید تھے انہوں نے بھی کہہ دیا تھا کہ ہمیں بحوالہ خدا کر کے کہیں دور چلے جاؤ۔اس تجویز کے ماتحت رات کو بارہ بجے سید عبد السلام صاحب مع سارے خاندان کے