شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 183
183 حضرت صاحبزادہ صاحب سید محمد عبد اللطیف شہید کے خاندان کے افغانستان سے نکلنے اور ہندوستان میں آنے اور قادیان کی زیارت کرنے کے حالات اس بارہ میں اخبار الفضل رقم طراز ہے کہ جیسا کہ احباب کرام کو اطلاع دی جا چکی ہے احمدیت پر قربان ہونے والے شہید صادق حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب مرحوم کے دو صاحبزادے جن کے نام سید ابوالحسن صاحب و محمد طیب صاحب ہیں چند دن سے قادیان تشریف لائے ہیں جنہیں دیکھ کر خوشی اور مسرت کے جذبات کے ساتھ ان کے والد بزرگ کی شہادت کا واقعہ تازہ ہو جاتا اور اس سے خاص جوش پیدا ہوتا ہے۔صاحبزادگان موصوف کے چہروں پر نجابت اور شرافت کے آثار نمایاں ہیں اور سلسلہ احمدیہ سے اخلاص اور محبت واضح طور پر مشاہدہ کی جاسکتی ہے۔چونکہ ان کے والد بزرگ کی احمدیت کے لئے قربانی اور جاں شاری کے واقعہ کے ساتھ جماعت احمدیہ کے پاک جذبات وابستہ ہیں۔نیز ان کے اس وقت تک کے حالات زندگی بھی احمدیت کی خاطر ایثار اور قربانی کے بے نظیر واقعات سے مملو ہیں اس لئے ایڈیٹر الفضل نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر خواہش کی کہ وہ اپنے حالات مختصر طور پر بیان فرمائیں۔تا جماعت احمدیہ ان سے آگاہ ہو کر ایمانی لذت اور سرور حاصل کر سکے اور۔۔۔۔اس کے اندر جوش اور ولولہ پیدا ہو۔ایک مختصر سی ملاقات میں بوساطت برادرم نیک محمد خان صاحب صاحبزادگان موصوف نے اپنے جو حالات بیان کئے وہ احباب کرام کے از دیا دایمان کے لئے درج ذیل کئے جاتے ہیں۔صاحبزادہ سید احمد ابوالحسن قدسی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب ہمارا خاندان امیر امان اللہ خان کے فیصلہ کے مطابق خوست آگیا اور زمینیں بھی ہمیں واپس مل گئیں تو اس حالت میں چار سال کا عرصہ گزرا ہوگا کہ امیر امان اللہ خان کے خلاف بغاوت پھوٹ پڑی ہم