شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 174
174 امان اللہ خان نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ لوگ میرا ساتھ دیں اور قصاص لینے میں میری اعانت کریں۔حاضرین نے اس سے اتفاق کیا اور امیر امان اللہ خان کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس کو افغانستان کا بادشاہ تسلیم کر لیا امیر امان اللہ خان نے ان اراکین سلطنت کے اہل و عیال کو اپنے زیر نگرانی کر لیا جو سردار نصر اللہ خان کے حامی تھے اور ان کے گھروں اور جائدادوں پر قبضہ کر لیا علاوہ ازیں اس نے کابل میں موجود اسلحہ کے ذخائر اور خزانہ بھی اپنے تصرف میں لے لئے۔اُس نے ایک فرمانِ شاہی کے ذریعہ سردار نصر اللہ خان اور اس کے حامیوں۔سردار عنایت اللہ خان اور مستوفی الملک مرزا محمد حسین برگیڈئیر جو کا بل کا مستقل گورنر امیر عبدالرحمن خان اور امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ سے چلا آ رہا تھا کونوٹس دیا کہ وہ لوگ حکومت کے باغی اور امیر حبیب اللہ خان کے قاتل ہیں اس لئے فوراً سر دار نصر اللہ خان دعوی بادشاہی سے دستبردار ہوا اور وہ اور اس کے ساتھی پا بجولان کا بل میں حاضر ہوں اور اپنی صفائی پیش کریں۔اب سردار نصر اللہ خان اور اس کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو بے بس پایا۔سردار نصر اللہ خان نے دستبرداری کا اعلان کر دیا اور تینوں اور ان کے دیگر حامی سردار پابجولان کا بل لائے گئے۔تحقیقات کے بعد سردار نصر اللہ خان کو عمر قید اور سردار عنایت اللہ خان اور سردار ہدایت اللہ خان کو کابل میں نظر بند کر دیا گیا اور مرزا بر گیڈیئر محمد حسین مستوفی الملک کو قتل کروا دیا اس کے علاوہ بھی بعض افسروں کو سزائے موت اور سزائے قید دی گئی۔کچھ عرصہ بعد پر سردار نصر اللہ خان کو خفیہ طور پر دم بند کر کے مروا دیا۔امیر حبیب اللہ خان کی بیوی علیاء حضرت جوامیر امان اللہ خان کی والدہ تھیں قندھار کے ایک صاحب رسوخ خاندان سے تھیں اور امیر حبیب اللہ خان کی چہیتی اور صاحب اثر و رسوخ بیوی تھیں اور ان کو اس کے عہد میں بڑا اقتدار حاصل تھا۔جب امیر حبیب اللہ خان ۱۹۰۹ء میں ہندوستان کے دورہ پر آئے تو بیان کیا جاتا ہے کہ انگریزوں نے ان کو رنگین مزاج بنا دیا تھا اور ان میں یہ تبدیلی ان کے قتل کا باعث بن گئی۔علیاء حضرت کو امیر حبیب اللہ