شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 16 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 16

16 وَإِن لم يَعصِمكَ النَّاسُ - يعصمك الله من عِنده - وَإِنْ لَّمْ يعصمك النَّاسُ - شَاتَانِ تُذبَحَانِ و كُلُّ مَن عَلَيْهَا فَانٍ وَلَا تَهِنوا وَلَا تَحْزَنُوا - اليس اللهُ بِكَافٍ عبده - أَلَمْ تَعلَم أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيءٍ قـدِيـر - وَجِتَنَا بِك على هؤلاء شهيدًا۔۔۔۔وعسى أن تُحبوا شيا هو شر لكم وعَسى ان تَكْرَهُوا شَيْئاً وَهُوَ خَيْرُ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعلَمُ وهو وأَنْتُمْ لَا تعلمون ترجمہ:- اگر چہ لوگ تجھے قتل ہونے سے نہ بچا ئیں لیکن خدا تجھے بچائے گا۔خدا تجھے ضرور قتل ہونے سے بچائے گا۔اگر چہ لوگ نہ بچائیں۔و, یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ لوگ تیرے قتل کے لئے سعی اور کوشش کریں گے۔خواہ اپنے طور سے اور خواہ گورنمنٹ کو دھوکا دے کر۔مگر خدا اُن کو ان کی تدبیروں میں نامرا در کھے گا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر چہ میں تجھے قتل سے بچاؤں گا مگر تیری جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر فنا ہوگا۔یعنی بے گناہ اور معصوم ہونے کی حالت میں قتل کی جائیں گی۔یہ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں محاورہ ہے کہ بے گناہ اور معصوم کو بکرے یا بکری سے تشبیہ دی جاتی ہے۔۔۔سوخدا تعالیٰ نے اس جگہ انسان کا لفظ چھوڑ کر بکری کا لفظ استعمال کیا۔کیونکہ بکری میں دو ہنر ہیں۔وہ دودھ بھی دیتی ہے۔اور پھر اس کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے۔اور یہ پیشگوئی شہید مرحوم مولوی محمد عبد اللطیف اور ان کے شاگر دعبدالرحمن کے بارے میں ہے کہ جو براہین احمدیہ کے لکھے جانے کے بعد پورے تئیں برس بعد پوری ہوئی۔۔۔جیسا کہ ابھی میں نے لکھا ہے کہ بکری کی صفتوں میں سے ایک دودھ دینا ہے۔۔۔مولوی صاحب موصوف نے مباحثہ کے وقت انواع و اقسام کے معارف اور حقائق بیان کر کے مخالفوں کو دودھ دیا۔گو بد قسمت مخالفوں نے وہ دودھ نہ پیا اور پھینک دیا اور پھر شہید مرحوم نے اپنی جان کی قربانی سے اپنا گوشت دیا اور خون بہایا۔۔۔۔اور میاں