شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 119
119 عبداللطیف کو ناحق شہید کرایا گیا ہے اور یہ ظلم ہوا ہے، وہ حق پر تھا۔اس پر امیر نے ان آدمیوں کو قید کر دیا ہے اور ان کے وارثوں کو کہا ہے کہ وہ ان کو سمجھائیں کہ ایسے خیالات سے وہ باز آ جائیں۔مگر وہ موت کو پسند کرتے ہیں اور اس یقینی بات کو وہ چھوڑ نا نہیں چاہتے۔اگر عبداللطیف شہید نہ ہوا ہوتا تو یہ اثر کس طرح پیدا ہوتا اور یہ رعب کس طرح پر پڑتا۔"یقیناً سمجھو کہ خدا تعالیٰ نے کسی بڑی چیز کا ارادہ کیا ہے اور اس کی بنیا د عبداللطیف کی شہادت سے پڑی ہے۔یہ موت موت نہیں یہ زندگی ہے اور اس سے مفید نتیجے پیدا ہونے والے ہیں۔۔۔یہ نشان ہزاروں لاکھوں انسانوں کے لئے ہدایت اور ترقی ایمان کا موجب ہوگا۔۔۔۔عبد اللطیف کے اس استقلال اور استقامت سے بہت بڑا فائدہ ان لوگوں کو ہو گا جو اس واقعہ پر غور کریں گے۔چونکہ یہ موت بہت سی زندگیوں کا موجب ہونے والی ہے۔اس لئے یہ ایسی موت ہے کہ ہزاروں زندگیاں اس پر قربان ہیں۔عبد اللطیف کی موت پر جو موت نہیں بلکہ زندگی ہے تم کیوں خوش ہوتے ہو۔آخر تمہیں بھی مرنا ہے۔عبداللطیف کی موت تو بہتوں کی زندگی کا باعث ہو گی مگر تمہاری جان اکارت جائے گی اور کسی ٹھکانے نہ لگے گی۔۔۔۔۔یہ ہماری جماعت کے ایمان کو ترقی دینے کا موجب ہوگی۔اس کے سوا اب یہ خون اٹھنے لگا ہے اور اس کا اثر پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے جو ایک جماعت کو پیدا کر دے گا۔‘ (۱۳۰) یہ خون کبھی خالی نہیں جائے گا۔اللہ تعالیٰ اس کے مصالح اور حکمتوں کو خوب وو جانتا ہے۔اس خون کے بہت بڑے بڑے نتائج پیدا ہونے والے ہیں۔‘ (۱۳۱) عجیب بات یہ ہے کہ ان کے بعض شاگرد بیان کرتے ہیں کہ جب وہ وطن کی طرف روانہ ہوئے تو بار بار کہتے تھے کہ کابل کی زمین اپنی اصلاح کے لئے میرے خون کی محتاج ہے۔اور در حقیقت وہ سچ کہتے تھے کیونکہ سرزمین کابل میں اگر ایک کروڑ اشتہار شائع کیا جاتا اور دلائل قویہ سے میرا مسیح موعود ہونا ان میں ثابت کیا جاتا تو ان اشتہارات کا ہرگز ایسا اثر نہ ہوتا جیسا کہ اس شہید کے خون کا اثر ہوا۔کا بل کی سرزمین پر یہ خون اس تخم کی مانند پڑا ہے جو تھوڑے عرصہ میں بڑا درخت بن جاتا ہے اور ہزار ہا پرندے اس پر اپنا بسیرا کر لیتے ہیں۔(۱۳۲)