شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 90 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 90

90 کر مولوی صاحب موصوف کا بل کی طرف روانہ ہو گئے اور قضا و قدر نے نازل ہونا شروع کر دیا‘ - (۸۱) اسی طرح فرمایا ”مولوی صاحب فرماتے تھے کہ مجھے بار بارالہام ہوتا ہے اذْهَبُ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنِّى مَعَكَ - اسْمِعُ وَ اَرى - وَأَنْتَ مُحَمَّدٌ مُعَذِّبَرٌ مُعَطَّرٌ، اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوتا ہے کہ آسمان شور کر رہا ہے اور زمین اس شخص کی طرح کانپ رہی ہے جو تپ لرزہ میں گرفتار ہو۔دنیا اس کو نہیں جانتی یہ امر ہونے والا ہے۔اور فرمایا کہ مجھے ہر وقت الہام ہوتا ہے کہ اس راہ میں اپنا سر دے دے اور دریغ نہ کر کہ خدا نے کابل کی زمین کی بھلائی کے لئے یہی چاہا ہے“۔(۸۲) سیداحمد نور صاحب کی روایت ہے کہ آپ بنوں میں کچھ عرصہ قیام کر کے سید گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔دوڑ کے مقام تک ٹم ٹم میں سفر کیا۔یہاں کے نمبر دار نے آپ کی آمد پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور آپ کی ضیافت کی۔صبح سید گاہ سے کچھ آدمی گھوڑے لے کر استقبال کے لئے آئے وہاں سے سوار ہو کر وطن کی طرف روانہ ہوئے۔(۸۳) وطن میں آمد اور رشتہ داروں کو تبلیغ جب حضرت صاحبزادہ سید محمد عبداللطیف صاحب اپنے گاؤں سید گاہ کے قریب پہنچے تو آپ کے عزیز واقارب نے بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ صاحبزادہ صاحب حج کر کے واپس آئے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ میں حج سے نہیں آیا بلکہ قادیان سے آیا ہوں جہاں ایک مقبول الہی مستجاب الدعوات شخصیت ہے جس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور آپ لوگوں کو یہ خبر دیتا ہوں کہ وہ اپنے دعوی میں صادق ہے اس کا انکار نہ کرو بلکہ اسے تسلیم کر کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ اور اس کی رحمتوں کے مور د اور وارث بن جاؤ۔اس پر آپ کے رشتہ دار ناراض ہو گئے اور کہنے لگے اس شخص کی بابت ہم کو خبر ملی ہے کہ وہ کا فر ہے (نعوذ باللہ ) اور