شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 58
58 زبان میں لکھ دیا۔اس کا کچھ حصہ عربی میں تھا۔اس خط کا اردو ترجمہ سیرت المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۶۱۷ میں چھپا ہوا ہے۔اس خط میں حضور نے امیر عبدالرحمن خان کو لکھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مامور و مصلح بنا کر مبعوث کیا ہے۔جو کچھ میں کہتا ہوں وہ خود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت کہتا ہوں۔میں اس زمانہ کا مجدد ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح و مہدی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔اس کے علاوہ آپ نے امیر عبدالرحمن خان کو اس خط میں بعض نصائح بھی فرمائیں۔یہ خط ماہ شوال ۱۳۱۳ھ مطابق مارچ ۱۸۹۶ء میں لکھا گیا تھا۔جب یہ شاگر د خوست پہنچے تو انہوں نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو وہ خط دے دیا۔آپ نے فرمایا کہ یہ بات تو سچی ہے اور یہ کلام ایک عظیم الشان کلام ہے لیکن امیر عبدالرحمن خان اتنی سمجھ نہیں رکھتا کہ وہ اسے سمجھ سکے اور ایمان لے آئے اس لئے یہ خط اس کو بھجوانا بے سود ہوگا۔یہ خط حضرت صاحبزادہ صاحب کے پاس پڑا رہا۔ایک موقعہ پر آپ نے یہ خط سردار شیریں دل خان کو دکھایا تو اس نے خط پڑھ کر کہا کہ یہ بات تو سچی ہے مگر امید نہیں کہ امیرا سے مانے۔سردار شیریں دل خان نے یہ بھی بتایا کہ ایک شخص انگریزوں کی طرف سے سفیر بن کر آیا۔امیر اس وقت قندھار میں تھا اس نے امیر کو بہت سی باتیں بتائیں اور مرزا صاحب کا بھی ذکر کیا امیر ناراض ہو گیا اور اس نے سفیر کو واپس بھجوا دیا اور انگریزی حکومت کو لکھا کہ ایسا شخص میری طرف سفیر بنا کر کیوں بھیجا گیا ہے جو مجھے میرے دن سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے سردار شیر میں دل خان نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ میں یہ خط امیر عبد الرحمن خان کو پیش نہیں کر سکتا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ آپ مجھے اجازت دے دیں کہ میں قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملوں لیکن سردار نے کہا کہ جس طرح میں اپنے بیٹے کو اجازت نہیں دے سکتا آپ کو بھی اجازت نہیں دے سکتا۔آپ بڑے آدمی ہیں ، امیر ہی اجازت دے تو دے۔