شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 57
57 خدمت میں پیش کرنے کے لئے ارسال کئے۔آپ کے بعض شاگردوں نے بھی اپنی بیعت کے خطوط لکھے اور ارسال کئے۔ان میں مولوی عبدالستار خان صاحب، سید حکیم صاحب ، سید احمد نور صاحب اور مولوی سید غلام محمد صاحب شامل تھے۔(۱۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب بعض اور مواقع اور ذرائع سے بھی حضرت صاحبزادہ صاحب کو ملیں ان کا ذکر بعض روایات میں آتا ہے۔مولوی عبدالستار خان صاحب کا بیان ہے کہ ڈیورنڈ لائن کی حد بندی کے دوران ایک شخص حضرت صاحبزادہ صاحب کو ملا۔وہ پڑھا لکھا تھا اس نے ایک کتاب حضرت صاحبزادہ صاحب کو دی اور عرض کی کہ میں نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے لیکن اس کتاب کا مجھے پتہ نہیں چلتا۔ایک شخص نے مسیح زمان ہونے کا دعوی کیا ہے۔میں نے اس کتاب کا کچھ ر دلکھا ہے۔آپ بڑے عالم و فاضل ہیں آپ اس کا بہتر جواب لکھ سکیں گے۔آپ نے فرمایا کہ یہاں تو مصروف ہوں گھر جا کر یہ کتاب دیکھوں گا۔(۱۸) حضرت صاحبزادہ صاحب کے ایک شاگرد کا حج پر جانا اور راستہ میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر سن کر قادیان جانا مولوی عبدالستار خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے ایک شاگرد براستہ ہندوستان حج کے لئے روانہ ہوئے۔جب دہلی پہنچے تو کسی شخص نے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اطلاع دی اور حضور کی بہت تعریف و توصیف کی۔اس شاگرد کے دل میں اشتیاق پیدا ہوا اور وہ قادیان آگئے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملے ، آپ کی باتیں سن کر اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے حضور کی بیعت کر لی۔جب وہ اپنے ملک واپس جانے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے افغانستان کے امیر عبدالرحمن خان کے نام ایک تبلیغی خط لکھنے کی آرزو کی۔حضور نے پہلے تو یہ فرمایا کہ تمہارا امیر نا فہم اور ظالم ہے وہ ایمان نہیں لائے گا۔لیکن اس شاگرد کے اصرار پر حضور نے انہیں ایک خط فارسی