شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 56 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 56

56 اور بڑی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اسی کا مجھے انتظار تھا۔اس کتاب میں بیان فرمودہ تمام باتیں کی ہیں۔یہ وہی شخص ہے جس کا انتظار د نیا کر رہی تھی۔وہ آ گیا ہے۔خدا نے مصلح بھیج دیا ہے۔یہ وہی ہے جس کے بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ جہاں بھی نازل ہو اس کی طرف دوڑو اور آپ نے اس پر سلام بھیجا تھا۔میں زندہ رہوں یا فوت ہو جاؤں لیکن جو شخص میری بات مانتا ہے میں اس کو وصیت کرتا ہوں کہ ضرور اس کے پاس جائے۔یہ بات آپ نے اپنی مجلس میں اپنے خاص دوستوں سے کی تھی۔آپ نے اپنے شاگردوں کو اشتیاق دلایا کہ وہ جائیں اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملیں اور آپ کے حالات معلوم کر کے واپس آئیں۔اس مجلس میں مولوی عبدالرحمن خان صاحب بھی موجود تھے۔صاحبزادہ صاحب کی باتیں سن کر انہوں نے کہا کہ میں جاؤں گا اور پتہ پتہ لاؤں گا۔صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ ہاں تم جاؤ اور تاکید کی کہ پوری تفتیش کر کے لے کر آؤ۔اس پر مولوی عبد الرحمن خان صاحب قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ۔السلام سے ملے اور آپ کے حالات معلوم کر کے اور آپ کی بعض کتب لے کر واپس آئے اور حضرت صاحبزادہ صاحب کو جملہ حالات سے خبر دی۔مولوی عبدالرحمن خان صاحب متعدد بار قادیان آئے۔ان کے علاوہ صاحبزادہ صاحب کے شاگردوں میں سے مولوی عبدالستار خان صاحب معروف به بزرگ صاحب، مولوی سید غلام محمد صاحب اور سید حکیم صاحب بھی مختلف اوقات میں چند بار قادیان گئے اور وہاں کئی ماہ قیام کر کے واپس ہوئے۔واپس آ کر یہ لوگ حضرت صاحبزادہ صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات بتاتے تھے اور حضور کی نئی شائع شدہ کتب ساتھ لے کر آتے تھے۔بعض دفعہ یہ شاگرد بعض سوال بھی پیش کرتے جن کے جواب حضرت صاحبزادہ صاحب ان کو سمجھایا کرتے تھے۔غالباً ۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنی بیعت کا خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھجوایا اور بعض تحائف بھی حضور کی