شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 55
55 آپ نے مجھے شناخت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے قرآن ہے جس نے آپ کی طرف میری رہبری کی۔۔۔میں دیکھ رہا تھا کہ اسلام ایک مردہ کی حالت میں ہو رہا ہے اور اب وہ وقت آ گیا ہے کہ پردہ غیب سے کوئی منجانب اللہ مجد ددین پیدا ہو۔۔۔۔انہیں دنوں میں یہ آواز میرے کانوں تک پہنچی کہ ایک شخص نے قادیان ملک پنجاب میں مسیح موعود ہونے کا دعوئی کیا ہے اور میں نے بڑی کوشش سے چند کتابیں آپ کی تالیف کردہ بہم پہنچائیں اور انصاف کی نظر سے ان پر غور کر کے پھر قرآن کریم پر ان کو عرض کیا تو قرآن شریف کو ان کے ہر ایک بیان کا مصدق پایا - (۱۶) حضرت قاضی محمد یوسف صاحب بیان کرتے ہیں کہ : جن ایام میں ڈیورنڈ لائن کے معاہدہ کے مطابق حد بندی کا کام ہو رہا تھا ان دنوں دونوں طرف کے نمائندے دن کو تو حد بندی کا کام کرتے تھے اور رات کو باہم ملاقات اور دعوتوں کی مجلسیں ہوتی تھیں جن میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیالات بھی ہوتا تھا۔جب پاڑہ چنار کے علاقہ میں کام ہو رہا تھا تو پشاور کے ایک صاحب جن کا نام سید چن بادشاہ تھا اور جو بطور محر ر انگریزی وفد کے ساتھ منسلک تھے ان کی حضرت صاحبزادہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے آپ سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور اور دعویٰ کا ذکر کیا۔اس میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے بہت دلچسپی لی اور حضور کی کوئی تصنیف دیکھنے کی خواہش کی۔یہ واقعہ غالباً ۱۸۹۴ء کا ہے کیونکہ ڈیورنڈ لائن کی حد بندی کا کام ۲۹ رمئی ۱۸۹۴ء سے شروع ہو کر ۳ رستمبر ۱۸۹۴ ء تک جاری رہا تھا۔سیداحمد نور کا بیان ہے کہ حد بندی کے دوران جب دوڑ ، خوست اور ٹل وغیرہ کی سرحدات متعین ہو گئیں اور پاڑہ چنار اور پیواڑ کوتل کے علاقہ میں کام ہور ہا تھا تو ٹل کے مقام پر ایک شخص نے حضرت مولانا غلام حسن صاحب پشاوری کی دی ہوئی ایک کتاب حضرت صاحبزادہ صاحب کو دی جو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف تھی۔یہ کتاب میری موجودگی میں نہیں دی گئی۔بعد میں آپ یہ کتاب سید گاہ لے آئے اور ہم سے اس کا ذکر کیا