شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 51
51 صاحبزادہ صاحب نے یہ خط سردار شیر میں دل خان کو دکھایا تو وہ بہت خوش ہوا اور کہا الحمد للہ ہمارے گھر والوں کو بھی خدا سے ملنے کا شوق پیدا ہوا۔سردار شیر میں دل خان کے دو بیٹوں کے نام معلوم ہو سکے ہیں۔ایک کا نام سردار عطاء اللہ جان تھا جو امیر امان اللہ خان کے زمانہ میں خوست کا گورنر تھا۔دوسرے کا نام سردار عبدالرحمن جان تھا جو امیر حبیب اللہ خان کا برادر نسبتی تھا۔اس نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کے بعد جب آپ کی نعش پتھروں سے نکالی گئی تو کابل کے ایک قبرستان میں تدفین سے قبل آپ کا جنازہ پڑھایا تھا اور انہی دنوں میں احمدیت قبول کر لی تھی۔اس کا مفصل ذکر آگے آئے گا۔(۱۰) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف کی وجاہت اور بلند علمی وروحانی مقام (11)-66 سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وہ امیر کابل کی نظر میں ایک برگزیدہ عالم اور تمام علماء کے سردار سمجھے جاتے اسی طرح فرمایا : یه بزرگ معمولی انسان نہیں تھا بلکہ ریاست کا بل میں کئی لاکھ کی ان کی اپنی جاگیر تھی اور انگریزی عملداری میں بھی بہت سی زمین تھی اور طاقت علمی اس درجہ تک تھی کہ ریاست نے تمام مولویوں کا ان کو سردار قرار دیا تھا۔وہ سب سے زیادہ عالم علم قرآن اور حدیث اور فقہ میں سمجھتے جاتے تھے۔اور نئے امیر کی دستار بندی کی رسم بھی انہی کے ہاتھ سے ہوتی تھی۔ریاست کابل میں پچاس ہزار کے قریب ان کے معتقد اور ارادتمند ہیں۔جن میں سے بعض ارکان ریاست بھی تھے۔غرض یہ بزرگ ملک کا بل میں ایک فرد تھا۔اور کیا علم کے لحاظ سے اور کیا تقوی کے لحاظ سے اور کیا جاہ اور مرتبہ کے لحاظ سے اور کیا خاندان کے لحاظ سے اُس ملک میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا اور علاوہ مولوی کے خطاب کے صاحبزادہ اور اخون