شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 47 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 47

47 ہونے لگی۔میں نے اپنے میر منشی سلطان محمد خان کو پردہ کے پیچھے اس طرح بٹھا دیا کہ اسے میرے سوا کوئی نہ دیکھ سکتا تھا۔اس نے تمام گفتگو خواہ وہ انگریزی میں تھی یا فارسی میں اُس کو لفظاً لفظاً لکھ لیا۔یہ کاغذات ہمارے ریکارڈ آفس میں محفوظ ہیں۔ہمارے مابین سرحدات کا جو تصفیہ ہوا اسکی رو سے واخان ، کافرستان ، اسمار، لال پورہ کے مہمند علاقے اور وزیرستان کا ایک حصہ اور بر مال میری حکومت میں شامل ہوئے اور میں نے چمن ، چاغائی ، بقیہ وزیری علاقہ ، بلند خیل کرم ، آفریدیوں کے علاقہ ، سوات ، باجوڑ ، بنیر ، دیر، چیلاس اور چترال پر اپنا دعوئی چھوڑ دیا۔انگریزی مشن ۱۴ نومبر ۱۸۹۳ء کو کابل سے واپس چلا گیا۔سرحد کے بارہ میں تمام غلط فہمیاں اور تنازعات ختم کر دئے گئے اور بعد میں اوپر بیان شدہ معاہدہ کے مطابق دونوں حکومتوں کے مقرر کردہ کمشنروں نے سرحد کی نشان دہی کر دی۔اس طرح ایک عام امن اور اتفاق رائے عمل میں آگیا۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ یہ ہمیشہ جاری رہے۔(۸) اس معاہدہ کے مطابق جب گرم اور پاڑا چنار کے پاس حد بندی ہوئی تو گورنمنٹ ہند کی طرف سے سر مار ٹیمر ڈیورنڈ اور نواب سر عبدالقیوم خان آف ٹوپی نمائندے مقرر ہوئے اور افغانستان کی طرف سے سردار شیر میں دل خان گورنر سمت جنوبی اور حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف کا تقرر ہوا۔جب یہ کمیشن ضلع بنوں اور کوہاٹ کے علاقہ میں حد بندی کا کام کر رہا تھا تو انگریزوں نے ایک نقشہ پہلے ہی تیار کروایا ہوا تھا جس میں اس علاقے کی حدود کی نشان دہی کی ہوئی تھی۔جب حضرت صاحبزادہ صاحب نے یہ نقشہ دیکھا تو انہیں معلوم ہوا کہ کابل کے معاہدہ کے خلاف سینکڑوں میل علاقہ نا جائز طور پر انگریزوں کے حوالہ کر دیا گیا ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس نقشہ کے مطابق سرحد کی نشان دہی کرنے سے انکار کر دیا۔جب یہ امر انگریز نمائندوں کو بتایا گیا تو انہوں نے اس غلطی کی درستی پر آمادگی کا اظہار کیا اور ایک نیا نقشہ تیار کر وانے کا وعدہ کیا۔سردار شیر میں دل خان کی طبیعت میں غصہ بہت تھا لیکن حضرت صاحبزادہ صاحب