شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 48
48 حلیم طبیعت کے تھے اس لئے مصلحتی بعض اوقات حضرت صاحبزادہ صاحب ہی انگریزوں سے مل کر سرحد کی نشان دہی کا کام کیا کرتے تھے۔سردار شیریں دل خان نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے کہا جب تک ہمیں ترمیم شدہ صحیح نقشہ نہیں مل جاتا ہم اس زمین پر قابض نہیں ہو سکتے جو افغانستان کے حصہ میں آئی ہے۔پرانے نقشہ کی بنا پر جھگڑا شروع ہو جائے گا کچھ کرنا چاہئے۔اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب کچھ سواروں کے ساتھ پاڑہ چنار آئے اور یہاں کے انچارج انگریز افسر سے ملے۔وہ اس نے آپ کا بہت احترام کیا اور نیا نقشہ تیار کروا کر آپ کے حوالہ کر دیا۔(۹) سردار شیر میں دل خان، حاکم خوست سے حضرت صاحبزادہ صاحب کے تعلقات جب سردار شیر میں دل خان سمت جنوبی کا حاکم ہو کر آیا تو اس کا رابطہ حضرت صاحبزادہ صاحب سے ہوا۔اس نے آپ کا پر اثر کلام سنا، آپ کے علم اور تقویٰ کا مشاہدہ کیا ، آپ کی مہمان نوازی کی شان دیکھی اور آپ کی سیاسی اور فوجی بصیرت سے آگاہ ہوا تو ان باتوں نے اس کے دل پر گہرا اثر کیا۔اس کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ حضرت صاحبزادہ صاحب ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں اور وہ ان کی نیک صحبت سے متمتع ہوتا رہے۔جب وہ کہیں جاتا تو حضرت صاحبزادہ صاحب کو گھر سے بلوا کر ساتھ لے جایا کرتا تھا۔اس کو آپ سے ایسی محبت ہو گئی کہ آپ کے بغیر چین نہ آتا تھا اور ایک بچہ کی طرح آپ کے زیر سایہ رہتا تھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مجھے حکام کی صحبت پسند نہیں۔یہ لوگ ظلمت میں زندگی بسر کرتے ہیں اور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔لیکن میں شیریں دل خان کے ساتھ اس لئے رہتا ہوں کہ جب غریبوں پر ظلم ہوتا ہے تو میری کوشش ہوتی ہے کہ لوگ اس کے پنجہ ظلم سے بچ جائیں۔جب آپ شیر میں دل خان کے پاس جاتے اور اس کی صحبت میں وقت گزارتے تھے تو اپنا کھانا ساتھ لے جاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ آپ لوگ حرام و حلال مال میں فرق نہیں کرتے اس لئے میں آپ کے ہاں کھانا نہیں کھاتا۔