شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 41 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 41

41 تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کے خلاف پایا۔حاکم نہایت ظالم تھے اور لوگوں سے نا جائز طریق سے روپیہ وصول کر کے دولت سمیٹتے تھے۔مولویوں کو دیکھا تو انہیں ایسا پایا کہ ہر ایک سے جھگڑتے ہیں اور فتوی بازی کرتے رہتے ہیں۔شیخان کو دیکھا کہ ان کے ہاتھوں میں لمبی لمبی تسبیجیں پائیں۔وہ بہت سے امور میں قرآن وحدیث کے خلاف تعلیم دیتے تھے مثلاً یہ کہ پیٹے رکھنا حرام ہے۔نسوار کا استعمال حرام ہے جس زمین میں نسوار کا پودہ کاشت کیا جائے پلید ہو جاتی ہے اور تین سال تک اس میں لگائی گئی فصل کا استعمال حرام ہوتا ہے۔نسوار استعمال کرنے والے کی بیوی بغیر اس کے کہ اسے طلاق دی جائے مطلقہ ہو جاتی ہے۔وہ لوگ مانڑ کی (مانکی) کے پیر صاحب کے متبع تھے۔ان کا عقیدہ تھا کہ ان کے پیر کو آسمان میں ، زمین کے نیچے اور دریاؤں کے اندر جس قدر بھی مخلوق ہے اس کا علم ہے۔آپ کے شاگر دمولانا عبدالستار خان بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی صحبت میں آنے سے پہلے میں بھی شیخان سے تعلق رکھتا تھا لیکن جب میں نے اپنے پہلے استاد کو چھوڑ کر حضرت صاحبزادہ صاحب کی شاگردی اختیار کی اور آپ سے بہت سے حقائق و معارف سنے تو ان کا میرے دل پر بہت اثر ہوا۔ایک مرتبہ میں نے آپ سے شیخان کے عقائد کے بارہ میں سوال کیا تو آپ نے ان کی تردید فرمائی اور سمجھایا کہ جو بھی پیر و مرشد دنیا میں ہیں وہ خدا تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کے حکم کے تابع ہیں وہ خدا کے رسول کے قدم پر ہوتے ہیں اور یہی ان کی بزرگی ہے۔ولایت ، قطبیت یا غوثیت اس سے زیادہ کچھ نہیں۔مولانا عبدالستارخان صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب اور دوسرے عالموں کے کلام میں یہ امتیاز ہوتا تھا کہ جب عام مولویوں سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا تو وہ یوں جواب دیتے تھے کہ ان کے خیال میں یہ مسئلہ اس طرح ہو گا۔وہ لوگ ظنی باتیں کرتے تھے ، انہیں یقین حاصل نہیں تھا۔لیکن آپ جب جواب دیتے تو پورے یقین اور وثوق کے ساتھ دیا کرتے تھے۔چونکہ شیخان افغانستان میں بکثرت پھیلے ہوئے تھے اس لئے حضرت صاحبزادہ