شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 389
389 دریافت کیا کہ آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی۔فرمایا مجھے کوئی دکھ نہیں ہوا اور میں نے کوئی تکلیف محسوس نہیں کی۔(۲۶) بزرگ صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ایک دفعہ ( سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کی مجلس میں کہا کہ لوگ قرآن کریم کی ان آیات کو متشابہات میں سے سمجھتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفات کے بارہ میں آئی ہیں۔مگر میرے لئے اس قسم کی آیت متشابہ ہیں جیسے رب العالمین۔میں عالم کو مانتا ہوں اس لئے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ورنہ میں اسے دیکھا نہیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسکرائے اور فرمانے لگے وجودی اسی مقام سے پھسل گئے ہیں کیونکہ جب وہ فانی ہو کر عالم کو نہیں دیکھ سکتے تو انکار کر دیتے ہیں۔(۲۷) ہے بزرگ صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پوچھا کہ بعض صوفیاء کہتے ہیں که ادراک کنه باری تعالیٰ محال ہے اور بعض کہتے ہیں کہ ممکن ہے۔ان میں سے کون سا فریق حق پر ہے۔آپ نے فرمایا ادراک کنہہ باری تعالیٰ کے یہ معنی نہیں کہ یہ معلوم کیا جائے کہ خدا تعالیٰ کیا چیز ہے اور یہ ناممکن ہے۔جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں۔تو فرعون نے سوال کیا کہ وَمَارَبِّ الْعَالَمِین خدا کیا چیز ہے۔اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرما یارَبُّ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِنْ كنتم مُوقِنِينَ یعنی آسمانوں اور زمین کا اور سب کا وہ رب ہے بشرطیکہ تم یقین کر و۔تو فرعون نے کہا که الا تسمعُون۔یعنی اے لوگو تم سنتے ہو؟ اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ رب العالمین کیا چیز ہے۔پھر موسیٰ علیہ السلام نے کہا رَبُّكُمْ وَرَبُّ ابْاءِ كُمُ الْأَوَّلِينَ یعنی تمہارا اور تمہارے باپ دادوں کا بھی وہی رب ہے۔اس پر فرعون کہنے لگا ان رسولكم الذي ارسل اليكم لمجنون کہ یہ رسول یقیناً مجنون ہے کیونکہ میں ذات باری تعالیٰ کی کنہہ پوچھتا ہوں اور وہ افعال باری تعالی بیان کرتا ہے۔