شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 388 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 388

388 رکھتے تھے۔اور یہ زمانہ ان کے کمال عشق کی حالت کا تھا۔جب میں نے اور عبدالجلیل نے نظر کی تو ایک بہت بڑے روشن ستارے کی طرح معلوم ہوا۔بلکہ اس سے بھی زیادہ - ہمارے ساتھ وزیر محمد ( وزیری ملا ) بیٹھا ہوا تھا۔اُس نے کہا کہ مجھے نظر نہیں آیا۔اس پر آپ نے فرما یا شما تقومی نه دارید یعنی تمہیں تقوی نصیب نہیں۔(۲۳) بزرگ صاحب نے بیان کیا کہ جب صاحبزادہ عبداللطیف قادیان سے خوست واپس جا رہے تھے تو راستہ میں میں نے کہا کہ وہاں آپ کو قتل کر ڈالیں گے۔اس پر آپ نے فرمایا دد من میرم اور یہ بھی کہا موت با من نه آئید جب آپ شہید ہو گئے تو رویا میں مجھے ان کی زیارت ہوئی۔میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ تو کہتے تھے کہ موت با من نه آئید انہوں نے جواب میں فرمایا : کا رہائے خدا ازیں ہم عظیم است - (۲۴) نوٹ از مرتب: صاحبزادہ صاحب کے اس قول کی وضاحت کہ موت مجھ پر نہ آئے گی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد سے ہوتی ہے۔حضور فرماتے ہیں : اولیاء اللہ اور وہ خاص لوگ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں وہ چند دنوں کے بعد پھر زندہ کئے جاتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاء یعنی تم ان کو مردے مت خیال کرو جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں وہ تو زندے ہیں۔پس شہید مرحوم کا اسی مقام کی طرف اشارہ تھا۔(۲۵) بزرگ صاحب بیان کرتے ہیں کہ واقعہ سنگساری کے متعلق ( رویا میں ) میں نے