شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 38 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 38

38 پاس ہی ایک گاؤں تھا جس میں ایک صاحب مولوی جان گل رہتے تھے وہ آپ کے واقف تھے۔ان کے ہاں چلے گئے۔صاحبزادہ صاحب نے ان سے حصول علم کے لئے سفر کرنے کا ذکر کیا۔مولوی صاحب نے عرض کی کہ میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔آپ نے فرمایا میرے پاس تو اس وقت ایک تہہ بند ہے۔فقیرانہ بھیس میں جاؤں گا اگر آپ میرے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو ایسے ہی لباس میں جانا ہوگا اور ملنگ بن کر سفر کرنا ہو گا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو سینہ نگا رکھنا پسند نہ تھا اس لئے دوران سفر ایک رومال سے سینہ ڈھانک لیا کرتے تھے۔امرتسر میں کشمیری محلہ کے ایک حنفی المذہب مولوی صاحب کے پاس قیام کیا۔وہاں ایک بڑی لائبریری تھی اس سے آپ نے بہت استفادہ کیا۔رات دن مطالعہ میں مصروف رہتے تھے۔امرتسر میں عام لوگوں سے واقفیت نہیں پیدا کی۔گمنامی کی حالت میں رہتے تھے۔کبھی کبھی تارک الدنیا فقراء کے پاس چلے جاتے تھے۔صاحبزادہ صاحب کو گھر سے خرچ کے لئے روپیہ آیا کرتا تھا اس سے غریبوں کی مدد کر دیا کرتے تھے اور خود سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔امرتسر میں آپ پر عجیب و غریب حالات گزرتے تھے فرماتے تھے وہاں مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک کی ایسی خوشبو آتی تھی جیسے کسی بار یک رومال میں کوئی خوشبو پاس ہی رکھی ہوئی ہو۔خاکسار کی رائے میں یہ خوشبو قُرب قادیان کی وجہ سے آتی تھی جہاں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام بنفس نفیس موجود تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ امرتسر کے مولوی صاحب سے میں نے تدریس کے طور پر نہیں پائی البتہ ان کی لائبریری سے بہت استفادہ کیا اور کبھی کوئی بات پوچھنی ہوتی تو ان سے پوچھ لیا کرتا تھا۔ایک دفعہ ایک اہل حدیث مسلک کے کسی عالم کی طرف سے دہلی سے ایک رسالہ حنفی مولوی صاحب کے نام آیا۔انہوں نے صاحبزادہ صاحب سے اس کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ دہلی سے بعض علماء اختلافی مسائل پر بحث کرنے کے لئے امرتسر آ رہے ہیں کیا کرنا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ مجھے اپنا وکیل بنا دیں۔ان کے آنے پر میں خود ہی انہیں جواب دے لوں