شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 387
387 دیکھنے سے آنکھیں چندھیا جاتی تھیں۔مولوی عبد الستار خان صاحب نے سُبحَانَ الله سُبْحَانَ اللہ کہنا شروع کر دیا - (۱۹) بزرگ صاحب نے بیان کیا کہ میں گواہی کے طور پر خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا۔۔۔۔۔۔ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جو آسمان وزمین کا مالک ہے اور جو قادرم ر مطلق خدا ہے کہ میں نے احمد قادیانی اور محمد عربی علیهما الصلوۃ والسلام کو ایک وجو د میں دیکھا۔اور بار بار دیکھا۔کہ کوئی فرق ان دونوں وجودوں میں نہیں پایا۔حضرت صاحبزادہ مولا نا عبداللطیف شہید مرحوم نے بھی یہی فرمایا تھا۔(۲۰) بزرگ صاحب بیان کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے حضرت شہید کو بڑی محبت تھی۔ان کا رنگ عاشقانہ رنگ تھا۔جب وہ حضور کی مجلس میں بیٹھتے تھے تو ان کی حالت اور کی اور ہو جاتی تھی۔وہ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جس رنگ میں دیکھا ہے اس رنگ میں کسی نے نہیں دیکھا چنانچہ آپ کا ایک شعر بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔عطرے نورے دہم اعظم سرمہ چشم کرم برقی تیغے روئے خوباں لشکر شاہ ارم تھے۔(۲۲) (۲۱) صاحبزادہ صاحب جب حضور کی مجلس میں بیٹھتے تو حضور کے پاؤں دبایا کرتے بزرگ صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک مرتبہ صاحبزادہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ کی طرف سیر کو جا رہے تھے تو راستہ میں مجھے اور عبدا لجلیل سے کہا کہ میرے ماتھے کی طرف دیکھو کہ تم اس کو دیکھنے کی طاقت رکھتے ہو۔جب ہم نے دیکھا تو وہ ایسا چمکتا تھا جیسے آفتاب - ہماری آنکھیں خیرہ ہوگئیں اور ہم نے نظر نیچی کر لی۔ایک مرتبہ رات کے وقت بھی ایسا واقعہ ہوا۔آپ مہمان خانہ کی کوٹھڑی میں تشریف