شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 386
386 کیا ہے میں کیا کروں میں نے تو قتل نہیں کیئے۔(۱۳) بزرگ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں بارہا آسمان پر گیا ہوں اور لوگ جو سات آسمان بتاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ آسمان ہیں۔میں نے حضرت مرزا صاحب کو آسمان میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر دیکھا ہے۔(۱۴) بزرگ صاحب نے بیان کیا کہ صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ میں جنت میں بہت دفعہ داخل ہوتا ہوں اور میوے کھاتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ تمہارے واسطے بھی پھل لاؤں۔مے خواہم از جنت چیز ہا برائے شما آوردم - مگر مجھے اجازت نہیں - (۱۵) بزرگ صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ میں جو باتیں لوگوں کو سناتا ہوں اس سے بہت کم درجہ کی باتوں پر لوگ مارے جاتے ہیں خدا کی قدرت میں اگر کوئی بات سناتا ہوں تو کوئی اعتراض مجھ پر نہیں کرسکتا۔پھر فرمایا کہ یا درکھو کہ جب خدا تعالیٰ کو میرا مار نا منظور ہوگا تو یہ حکمت مجھ سے چھینی جائے گی۔(۱۶) بزرگ صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ ہم نے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کو پہچانا تھا۔اُس کے دروازے کی زنجیر کھٹکھٹاتے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں کھٹکھٹانے کی ترکیب بتائی ہے کہ اس طرح کھٹکھٹاؤ تو دروازہ کھولا جائے گا - (۱۷) بزرگ صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ شہید مرحوم نے فرمایا کہ پہلے بھی کبھی کبھی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بُروز مجھ پر آتا تھا۔مگر مقدر یہ تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملوں گا تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی مجھ سے جدا نہیں ہوں گے۔سواب بالکل یہی حالت ہے۔حضور مجھ سے جدا نہیں ہوتے۔(۱۸) سید احمد نور نے بیان کیا کہ ایک روز حضرت صاحبزادہ صاحب نے مولوی عبدالستار خان صاحب سے کہا کہ میرے چہرے کی طرف دیکھو۔مولوی صاحب دیکھنے لگے لیکن دیکھ نہ سکے اور نظریں نیچی ہو گئیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کا چہرہ سورج کی طرح روشن تھا، اسے