شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 382 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 382

382 جو خدا پر توکل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے لئے لوگوں کے دلوں میں خود الہام کرتا ہے کہ وہ اس۔کی مدد کریں۔غرض اللہ تعالیٰ الہام کے ذریعہ ان کی امداد بھی کرا دیتا تھا۔” میں نے الہام کے بارہ میں جس قدر اپنی جماعت کے اشخاص دیکھے ہیں ان میں سے میں نے انہیں زیادہ ثابت قدم غیر متزلزل اور مضبوط دیکھا۔الہام ہماری جماعت میں سے اور بھی بہت سے لوگوں کو ہوتے ہیں مگر بعض ان میں سے ایسے ہیں جو ایک وقت میں آ کر ٹھو کر کھا جاتے ہیں اور پھر تو کئی ایسے بھی ملہم ہیں جو مجھے دھمکیاں دینے لگ جاتے ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ میں نے کبھی اپنے الہامات یا کشوف بیان نہیں کئے اس لئے مجھے الہامات ہوتے ہی نہیں اور اس طرح وہ اپنے کشوف اور الہامات سنا سنا کر مجھے ڈرانا چاہتے ہیں۔وو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن شریف کا جو علم دیا ہے اس کے ماتحت انسانوں کی دھمکیاں مجھ پر اثر ہی نہیں کرتیں۔چاہے دھمکی دینے والا ہم کے لباس میں آئے ، چاہے مامور کے لباس میں ، چاہے بادشاہ کے لباس میں اور چاہے فقیر کے لباس میں۔میں جانتا ہوں کہ کلام اور کلام کے پانے والوں کے کیا درجے اور مراتب ہوتے ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان درجوں کو خوب سمجھتا ہوں۔اس لئے مجھے پر ہمیشہ وہی چیز اثر کرتی ہے اور اُتنا ہی اثر کرتی ہے جو اثر والی ہو اور جتنی اُس میں تا خیر پائی جاتی ہو۔اس سے اوپر اور نیچے مجھ پر کوئی چیز اثر نہیں ڈال سکتی۔مولوی عبدالستار صاحب افغان کو میں نے دیکھا ہے کہ انہیں کثرت سے الہامات ہوتے تھے۔مگر باوجود اس کے وہ خلافت کا انتہائی ادب کرتے اور سوائے ایک دفعہ کے میرے اور ان کے درمیان کبھی غلط فہمی پیدا ہونے کا موقع نہیں آیا۔وہ بھی اس طرح کہ ایک شخص نے میرے پاس بیان کیا کہ مولوی صاحب ایسی ایسی باتیں بیان کرتے ہیں۔میں نے کہا کہ مولوی صاحب ایسا تو نہیں کہتے ہوں گے ،تمہیں غلطی لگی ہو گی۔چنانچہ اس کے فوراً بعد مولوی صاحب کو پتہ لگا تو انہوں نے میرے پاس تردید کی اور کہا کہ میں