شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 383
383 نے کوئی ایسی بات نہیں کہی۔۔۔پس میں تاریخ میں جماعت کے ایک نیک اور اچھے شخص کے نمونے کو قائم کرنے کے لئے یہ خطبہ کہہ رہا ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ کو بھی آپ کا اتنا خیال تھا کہ جن چند لوگوں کو آپ نے امام الصلوۃ کے طور پر مقرر کیا ہوا تھا اُن میں سے ایک آپ بھی تھے۔غرض جہاں میں چاہتا ہوں کہ تاریخ میں ان مخلص اور خدا رسیدہ لوگوں کے نام رہ جائیں وہاں میں نو جوان احمدیوں اور نئے احمدی بننے والوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس قسم کا اخلاص اور ایمان پیدا کریں اور انہیں اللہ تعالیٰ پر ایسا یقین معرفت اور تو کل ہو کہ اللہ تعالیٰ ان سے براہ راست ہمکلام ہو اور وہ اس مقام پر کھڑے ہوں کہ ان کی وفات آسمان اور زمین کو ہلا دینے کا موجب ہو۔’یا د رکھو کہ یقین کے مقام پر وہ شخص ہوتا ہے جو کامل تعشق ، کامل عبودیت اور کامل تو کل پیدا کرتا ہے اور یہاں تک اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق میں گداز ہو جاتا ہے۔(۷) بعض روایات حضرت بزرگ صاحب نے بیان کیا کہ : ایک دفعہ یورپ سے کسی شخص نے کوئی کھانے کی چیز از فتسم حلوہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بجھوائی۔حضور نے اسے اپنے موجود احباب میں تقسیم کر دیا۔مولوی عبدالستار خان صاحب اُس وقت موجود نہ تھے حضور نے ان کے لئے دُگنا حصہ رکھ لیا۔جب وہ حاضر خدمت ہوئے تو انہیں ان کا حصہ دے دیا۔مولوی صاحب ان دنوں جسم میں درد اور کھانسی کے عارضہ سے بیمار تھے۔وہ حلوہ کھانے سے ان کی شکایت جاتی رہی اور وہ بالکل تندرست ہو گئے۔(۸) ☆ مکرم محمد فاضل ابن نور محمد سکنہ کبیر والا ، ضلع ملتان ( حال ضلع خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ قادیان گئے۔اُس وقت موسم سرما تھا۔اُن کے پاس اوڑھنے کو کوئی کپڑا نہ