شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 380 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 380

380 خاص اثر ہے۔اُس زمانہ میں مجھے تبلیغ کی کمی کا اس قدر احساس تھا اور میرے دل پر اس قدر اثر تھا کہ وہ دیوانگی کی حد کو پہنچا ہوا تھا۔یہ رویا میرے لئے بہت اُمیدا فزا ثابت ہوئی اور پھر خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے لئے راستے کھول دیئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مولوی صاحب کا بہت بڑا درجہ تھا۔ان کی وفات سے دو اڑھائی مہینے پہلے کی بات ہے میں نے ڈلہوزی میں ایک رویا دیکھا کہ کوئی شخص نہایت گھبرائے ہوئے الفاظ میں کہتا ہے دوڑ و! دوڑو ! قادیان میں ایک ایسا شخص فوت ہوا ہے جس کے فوت ہونے سے آسمان و زمین ہل گئے ہیں۔جب میری نظر اٹھی تو میں نے دیکھا کہ واقعی آسمان ہل رہا تھا اور مکان بھی ہل رہے ہیں گویا ایک زلزلہ آیا ہے۔” میرے قلب پر اس کا بڑا اثر ہو امیں گھبرا کر پوچھتا ہوں کہ کون فوت ہوا ہے؟۔اس رؤیا کے سات آٹھ دن بعد تار پہنچا کہ حضرت ام المومنین سخت بیمار ہیں۔اُس وقت تار کے پہنچنے پر میں نے بعض دوستوں کو جن میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور غالباً مولوی شیر علی صاحب بھی تھے بتایا کہ میں نے اس طرح رویا دیکھا ہے جس کی وجہ سے مجھے گھبراہٹ ہے شاید اس سے مراد حضرت اُم المومنین ہی ہوں میں فوراً روانہ ہو گیا لیکن میرے آنے تک بہت حد تک انہیں صحت ہو گئی تھی۔پھر جلد ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہیں کامل صحت ہوگئی۔اس کے چند ہی دنوں کے بعد مولوی عبد الستار صاحب بیمار ہو گئے اور مجھے ان کی بیماری کی اطلاع پہنچی۔گو میں اس عرصہ میں ان کی صحت کے لئے دعا کرتا تھا مگر دل میں خدشہ تھا کہ اس خواب سے مراد انہی کی وفات نہ ہو۔اور اب جب کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ رو یا انہی کے متعلق تھی جو پوری ہوگئی۔جب کوئی شخص ایسا فوت ہوتا ہے جو مقبول الہی ہو تو ان کی وفات کا زمین و آسمان پر اثر ضرور ہوتا ہے۔حدیثوں میں بھی اس قسم کا مضمون آتا ہے کہ جب مومن بندے کی جان نکالنے کا وقت آتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو بہت تردد ہوتا ہے۔تر ڈ داور پھر اللہ تعالیٰ کا تر ڈو یقیناً زمین و آسمان کو ہلا دینے والا ہوتا ہے۔