شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 376
376 بیٹھتا تھا۔افغانی احمدیوں کا آپ کے گرد ہمیشہ ایک مجمع رہتا تھا۔اور آپ ان کی تعلیم و تربیت و ترقی کی طرف خاص توجہ کرتے تھے۔مرحوم حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے خاص شاگردوں اور دوستوں میں سے تھے۔’ حضرت شہید مرحوم نے مولوی عبدالستار صاحب کو قادیان بھجوایا تھا تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملیں اور آپ کے حالات معلوم کر کے واپس آئیں۔مولوی عبدالستار صاحب قادیان آئے ، کچھ مدت یہاں رہے۔۔۔۔واپس حضرت شہید مرحوم کے پاس گئے اور تمام حالات قادیان سے انہیں آگاہ کر کے قادیان آنے کا مشتاق بنایا۔میں اُس وقت ہنوز ریاست جموں کے ہائی سکول میں ملازم تھا مگر قادیان اکثر آتا رہتا تھا۔اس واسطے ابتداء سے ہی مجھے مرحوم کے ساتھ واقفیت اور محبت کا تعلق تھا۔مرحوم ابتدائی زمانہ میں اپنے استاد حضرت شہید مرحوم کے حکم سے کئی بار قادیان آئے۔۔۔۔۔حضرت صاحبزادہ صاحب مرحوم ۱۹۰۲ء میں خود ایک قافلہ شاگردان کے ساتھ قادیان آئے تو اس وقت بھی مولوی عبدالستار صاحب و سید احمد نور آپ کے ہمراہ تھے اور ان کے ساتھ ہی خوست واپس گئے تھے۔پھر ۱۹۰۴ء میں قادیان ایسے آئے کہ ۲۸ سال گذشتہ برابر یہاں مقیم رہے آپ کی عمر بوقت وفات قریباً نوے (۹۰) سال تھی۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں بلند مقامات عطا فرمائے اور اپنے قرب میں خاص جگہ دے۔‘ (۵) آپ کے انتقال کے بارہ میں اخبار الفضل رقم طراز ہے: ” نہایت ہی رنج اور افسوس کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالستار صاحب افغان المعروف بزرگ صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اولین صحابہ اور حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے شاگردانِ خاص میں سے تھے۔طویل علالت کے بعد ۱۸ / اکتوبر ۱۹۳۲ء کو ساڑھے آٹھ بجے صبح دنیائے فانی سے رحلت فرما حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے الفضل ۳۰ /اکتوبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۸ پر تاریخ وفات ۱۷/ اکتو بر ۱۹۳۲ لکھی ہے۔