شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 374
374 جب حضرت صاحبزادہ صاحب شہید ہو گئے تو مولوی عبدالستار صاحب ۱۹۰۴ء میں ہجرت کر کے قادیان آگئے۔(۳) قادیان میں قیام کے حالات صاحبزادہ سید ابوالحسن صاحب قدسی نے مولوی عبدالستار بزرگ صاحب کو اپنے افغانستان سے قادیان آنے کے بعد ۱۹۲۶ء میں پہلی دفعہ دیکھا تھا۔قدسی صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ کا قد درمیانہ اور بدن چھریرا تھا۔پیشانی روشن تھی۔چہرہ نورانی تھا ، داڑھی سفید تھی۔آپ کی طبیعت میں شیفتگی اور نرمی اور تواضع اور خاکساری تھی۔مسکراتے رہتے تھے مگر کبھی قہقہہ مار کر نہیں ہنستے تھے۔مخلوق خدا کی ہمدردی اور دوسروں کی تکالیف کا بے حد احساس تھا۔آپ کو گوشہ نشینی اور گمنامی پسند تھی لیکن اکثر لوگ آپ کی دعا کی قبولیت کا مشاہدہ کر چکے تھے۔جماعت احمدیہ میں آپ کی شہرت اور آپ سے واقفیت بہت تھی۔آپ کی مادری زبان پشتو تھی۔فارسی اور عربی میں بھی گفتگو کر سکتے تھے۔اُردو زبان بھی خوب پڑھتے اور سمجھتے تھے مگر بولنے کی زیادہ مشق نہ تھی۔آپ نے اپنے حجرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کا درس جاری کیا ہوا تھا۔قرآن و حدیث کی تعلیم دیا کرتے تھے اور قرآن مجید کے بعض نہایت لطیف معنے بیان کرتے تھے۔تصوّف کی اکثر کتابوں پر عبور تھا اور صوفیوں کے حالات سے خوب واقف تھے۔آپ کا تصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رنگ میں رنگین تھا۔حضور اقدس کی روایات بھی بیان کرتے تھے۔آپ کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ایک ایک روایت میں نے کئی کئی دفعہ آپ سے سنی۔جہاں تک مجھے علم ہے آپ کی ہر روایت کے الفاظ ہر دفعہ ایک ہی ہوتے تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کو آپ سے خاص تعلق تھا۔