شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 365 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 365

365 کا بل چھوڑ کر اپنے وطن روانہ ہو گیا۔اس کا وطن سمت جنوبی میں گردیز کے پاس تھا۔نئے بادشاہ امیر عنایت اللہ خان کی تخت نشینی کی رسم ملا صاحب شور بازار کے چھوٹے بھائی ملا شیر آقا نے ادا کی تھی۔کابل میں نئے بادشاہ کے تقرر پر تو ہیں چھوڑی گئیں تو عوام کو یقین ہو گیا کہ امیر امان اللہ خان کا دور اقتدار ختم ہو چکا ہے۔امیر عنایت اللہ خان نے صلح کی خاطر بچہ سقاؤ کے پاس ایک وفد بھجوایا۔جس کا لیڈر ملا شیر آقا تھا۔اس وقت افغان فوج اور باغیوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی۔یہ وفد سفید جھنڈا لہراتا ہوا نکلا اور باغ بالا کے پاس سرکاری دفاعی لائن کے قریب آ کر ٹھہر گیا۔ملا شیر آ قانے کا بل کا دفاع کرنے والے سپاہیوں کے پاس جا کر اپنی موٹر رکوائی اور قریب کے سپاہیوں کو مخاطب ہو کر فارسی زبان میں کہا۔او بچہ ہا حالا شما برائے چہ جنگ می کنید ؟ اگر برائے امان اللہ خان خان جنگ مے کنید - من بشما گویم که اوگر بخته است جس کا مفہوم یہ ہے کہ بچو ! تم اب کس کے لئے جنگ کر رہے ہو۔اگر تم امان اللہ خان کے لئے لڑ رہے ہو تو میں تمہیں بتا تا ہوں کہ وہ تو بھاگ چکا ہے۔ملاً شیر آقا نے یہ فقرے تو کہہ دیئے اور سپاہیوں کو صاف الفاظ میں بتا دیا کہ امان اللہ خان اب بادشاہ نہیں رہا اور کابل سے بھاگ گیا ہے۔لیکن اس نے سپاہیوں کو یہ نہیں بتایا کہ اب امان اللہ خان کی جگہ معین السلطنت عنایت اللہ خان بادشاہ بن چکا ہے۔اور یہ کہ میں نئے بادشاہ کی جانب سے بچہ سقاؤ کے پاس وفد لے کر جا رہا ہوں تا کہ اب وہ جنگ بند کر دے اور نئی حکومت کو قبول کر لے۔لیکن ملا شیر آقا نے ایسا نہیں کیا۔ملا کے ان طلسماتی کلمات نے سرکاری فوج پر عجیب اثر کیا اور سپاہی یہ سمجھ کر اب کوئی بادشاہ نہیں رہا اور ان کے سر پر کوئی وجود ایسا نہیں جس کی ماتحتی اور ملازمت میں وہ لڑائی جاری رکھ سکیں۔اپنے اپنے مورچے چھوڑ کر تتر بتر ہو گئے