شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 366 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 366

366 اور سرکاری دفاع اس محاذ پر ختم ہو گیا۔بچہ سقا ؤ نے جب دیکھا کہ سرکاری فوج کی طرف سے فائر بند ہو چکے ہیں اور فوج اپنے مورچے چھوڑ کر منتشر ہو گئی ہے۔تو وہ سمجھ گیا کہ قدرت نے اسے اب ایسا موقعہ دیا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھا کر وہ خود امیر بن سکتا ہے۔چنانچہ جب اس نے سرکاری وفد سے ملاقات کی تو ملا شیر آقا کی تجاویز ماننے سے صاف انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ عنایت اللہ خان بھی دستبردار ہو جائے۔اب وہ خود افغانستان کا امیر ہے۔چنانچہ اسی روز باغیوں نے کابل میں داخل ہو کر ارک پر قبضہ کر لیا۔اور امیر عنایت اللہ خان نے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔عنایت اللہ خان کی طرف سے سفارت خانہ انگریزی کو درخواست کی گئی کہ عنایت اللہ خان اور اس کے خاندان کے لئے ہوائی جہازوں کا انتظام کر دیں۔یہ درخواست بھی ملا شیر آقا کے ذریعہ سفیر برطانیہ کو کی گئی۔انگریزوں نے اسے منظور کر لیا۔جملہ امور طے پانے کے بعد عنایت اللہ خان نے تیسرے دن صبح قریباً دس بجے روتے دھوتے پشاور کی طرف پرواز کی۔درّانی پھریرا جوارک کے مشرقی برج پر لہرا رہا تھا۔اتار دیا گیا۔(۱۷) تین بکروں کے ذبح کئے جانے کی پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہاما خبر دی تھی کہ شـــــــانِ تذبحان یعنی دو بکرے یا بکریاں ذبح کی جائیں گی۔یہ الہام حضور کی زندگی میں مولوی عبدالرحمن شہید اول اور حضرت مولانا محمد عبد اللطیف صاحب شہید کی شہادت سے پورا ہوا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف تذکرۃ الشہادتین میں وضاحت سے اس پیشگوئی کا ذکر فرمایا ہے۔