شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 364
364 امیر امان اللہ خان جس نے اپنا تخت بچانے کے لئے احمدیوں سے بدعہدی کی اور تین احمد یوں مولوی نعمت اللہ خان صاحب پنجشیری ، مولوی عبد الحلیم صاحب اور قاری نور علی صاحب کو سنگسار کروا کر شہید کروا دیا۔اس کا انجام یہ ہوا کہ ۱۹۲۹ء میں باغی ڈاکو حبیب اللہ خان معروف بچہ سقاؤ سے شکست کھا کر اپنے بڑے بھائی امیر عنایت اللہ خان کے حق میں دستبردار ہو کر قندھار کی طرف بھاگ گیا۔وہاں اگر چہ اس کا لشکر اور حامی موجود تھے۔لیکن دوبارہ شکست کھائی اور بالآخر اپنے حامی لشکر جو اس کے وطن قندھار سے تعلق رکھتا تھا۔اس کو بتائے بغیر خفیہ طور پر پھر فرار کا راستہ اختیار کیا۔جب امیر امان اللہ خان کا بل سے بھاگ کر قندھار پہنچا تو۔قبیلہ سلیمان خیل بچہ سقاؤ کے ساتھ مل گیا۔اور امیر امان اللہ خان سے لڑائی کرنے کو لشکر لے کر آ گیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ قبیلہ ملا شور بازار کے مرید تھے اور ملا شیر آقا کے ہمنوا تھے۔چونکہ یہ لوگ امان اللہ خان سے بیزار ہو چکے تھے اس لئے وہ بھی ان سے متنفر تھا۔اس سے امان اللہ خان بے دل ہو گیا۔اس کو ہزار سمجھایا گیا کہ وہ قبیلہ وردک کے علاقہ میں داخل ہو جائے یہ لوگ اس کے حامی تھے اور اب تک سقاویوں سے جنگ کر رہے تھے۔لیکن امان اللہ خان پر خوف اس قدر غالب آچکا تھا کہ اس نے یہ مشورہ بھی قبول نہ کیا اور اپنی فوج کو مقر کی طرف ہٹ جانے کا حکم دیا۔وہ مقر میں بھی نہ ٹھہرا کیونکہ قبیلہ سلیمان خیل کا لشکر اس کے تعاقب میں تھا۔وہاں سے امیر امان اللہ خان قلات زابل چلا گیا۔اور وہاں سے اپنے سب حامیوں - کو اسی حال میں چھوڑ کر خفیہ خفیہ انتظام کر کے اپنے اہل و عیال سمیت بلوچستان میں چمن آیا اور انگریزوں کی پناہ کا طالب ہوا۔(۱۶) اس ضمن میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کابل میں شہر کی حفاظت کے لئے میر غوث الدین خان احمد زئی ، ایک لشکر جمع کر رہا تھا۔جس کا مقصد امیر امان اللہ خان کی حفاظت اور مدد کرنا تھا اس کو بادشاہ کی طرف سے اسلحہ بھی دیا گیا تھا۔جب بچہ سقا ؤ نے کا بل پر حملہ کیا تو میر غوث الدین خان احمد زئی نے بجائے اس کے کہ باغیوں کا مقابلہ کرے اپنے لشکر