شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 359
359 اس کے ساتھی ملا کو ہاتھوں اور پاؤں میں زنجیر میں ڈال کر پیش کیا گیا۔۔۔۔پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب ملا لنگ زیر حراست ہے۔یہ بات یقینی طور پر نہیں کہی جاسکتی کہ اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔اس خیال سے کہ موسم بہار میں پھر خوست میں بے چینی نمودار نہ ہو ( احمدیوں کے ) یہ تازہ قتل اس کی بغاوت کی طرف رجحان کو روکنے کے لئے کئے گئے ہیں۔کچھ بھی ہو اس کی حالت نا مرغوب ہے۔اگر چہ یہ بات یقینی ہے کہ (ملا نے ) اس پروا نہ راہداری اور وعدہ حفاظت سے اس وقت فائدہ اٹھایا ہو گا جبکہ اس کو پختہ یقین ہو گیا ہو گا کہ اس کی حفاظت کا وعدہ اور ضمانت ایسی پختہ ہے کہ اسے توڑا نہیں جا سکتا۔۔۔ہم یہ باور نہیں کر سکتے کہ دو قا دیانیوں کا قتل حالات کو درست کر دے گا۔۔۔۔کیونکہ اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ حکومت افغانیہ ان ملانوں سے ڈرتی ہے اور وہ سلطنت کے اسی خوف کی وجہ سے اپنی روش میں قدم آگے بڑھاتے چلے جائیں گے پچھلے چند ماہ میں جو گفت و شنید حکومت کے ارباب اختیار نے ان ( ملاؤں ) سے کی تھی۔وہ اس حد تک قابل اعتبار نہیں تھی۔جتنا افغان حکومت ظاہر کرتی ہے۔ان حالات میں ( بغاوت و بے چینی کا ) خطرہ خوست کی حدود سے بہت باہر تک پھیلا ہوا ہے۔افغانستان ایک غریب ملک ہے اور اس کا سرکاری خزانہ ظاہری و خارجی زیبائشوں مثلاً لندن، برلن، پیرس اور ماسکو کے سفارت خانوں کے اخراجات کی وجہ سے خالی ہو چکا ہے۔۔۔امیر امان اللہ خان کی طرف سے تمدنی صنعتی اور انتظامی اصلاحات کی کوششیں ہمدردانہ رنگ میں دیکھی جاتی ہیں۔لیکن ان قدامت پسند لوگوں کے لئے نا قابل قبول ثابت ہوئیں۔(۱۰) شہید ان کا بل کی سنگساری کا خونی منظر ایک چشم دید گواہ کا بیان فضل کریم صاحب سرگودھا بیان کرتے ہیں : بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را