شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 329
329 تحریک پر اور قاضیوں اور مفتیوں کے فتاویٰ کی بناء پر کہ نعوذ باللہ آپ کا فر ہیں شہید کر وایا تھا۔امیر حبیب اللہ خان ک19ء میں انگریز وائسرائے کی دعوت پر ہندوستان کے دورہ کے لئے آیا۔ہندوستان میں اس سے بعض امور ایسے سرزد ہوئے کہ افغانستان کے بعض ملا اس کے خلاف ہو گئے اور اس کو کا فر ملحد اور واجب القتل قرار دینے لگے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا تھی کہ جن ملاؤں کے فتوؤں پر تکیہ کر کے تم نے ہمارے ایک معصوم بندے کو شہید کروایا تھا اب وہی ملا تمہارے خلاف بھی اسی طرح کے فتوے دے رہے ہیں۔ڈاکٹر عبد الغنی اہل حدیث جب حضرت شہید مرحوم کا مباحثہ کابل میں قرار پایا تو ڈاکٹر عبد الغنی اہل حدیث جو جلال پور جٹاں ضلع گجرات کا باشندہ تھا اور کابل میں اپنے دو بھائیوں مولوی نجف علی اور مولوی محمد چراغ کے ہمراہ مقیم تھا۔اس کو امیر حبیب اللہ خان نے مباحثہ کا سر پنج مقرر کیا۔جب ملاؤں نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے خلاف فتویٰ تکفیر دے دیا اور آپ کیلئے سنگساری کی سزا تجویز کی تو ڈاکٹر عبدالغنی ، مولوی نجف علی اور مولوی محمد چراغ نے امیر حبیب اللہ خان اور سردار نصر اللہ خان کے رو بر و حضرت صاحبزادہ صاحب کے خلاف شدید مخالفانہ باتیں کیں اور ان کو کافر اور واجب القتل قرار دیا۔عجیب بات ہے کہ باوجودیکہ کہ ڈاکٹر عبدالغنی اور اس کے بھائی امیر حبیب اللہ خان کے ملازم اور سردار نصر اللہ خان کے منظور نظر تھے۔کچھ سالوں کے بعد امیر حبیب اللہ خان ان سے بدظن ہو گیا اور ان کو جیل میں قید کر وا دیا جہاں وہ گیارہ سال رہے اور امیر امان اللہ خان کے زمانہ میں انہیں رہائی نصیب ہوئی۔ڈاکٹر عبد الغنی خان کی بیوی نہایت بے سروسامانی کی حالت میں اپنے وطن واپس آنے کے لئے روانہ ہوئی راستہ میں لنڈی کوتل میں مرگئی وہاں کے مسلمانوں نے چندہ جمع کر کے اس کی تجہیز و تدفین کے اخراجات ادا کئے اور اسے وہاں دفن کر دیا گیا۔ڈاکٹر عبدالغنی خان کا نوجوان بیٹا عبد الجبار ا یک روز شہر کا بل میں سودا لے کر گھر