شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 326 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 326

326 تعلق مولانا نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کے قریب عرصہ سے یا اس زمانہ کے بادشاہ امیر امان اللہ خان سے ہے ان کا تذکرہ بھی اب کیا جائے گا۔انشاء اللہ ظالم کا یا داش کی پیشگوئی (1) جب امیر حبیب اللہ خان نے شہزادہ عبداللطیف مرحوم کو شہر کا بل میں شہید کروایا تو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رسالہ تذکرۃ الشہا دتین تحریر فرمایا اس رسالہ میں حضور علیہ السلام نے شہید اول افغانستان مولوی عبد الرحمن خان اور حضرت شہید مرحوم مولوی سید محمد عبد اللطیف صاحب کے واقعات شہادت تحریر کر کے یہ فرمایا کہ شاہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہو چکی اب ظالم کا پاداش باقی ہے (۸۸) صاحبزادہ مولوی عبد الطیف مرحوم کا اس بے رحمی سے مارا جانا اگر چہ ایسا امر ہے کہ اس کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے لیکن اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہوں گی اور کابل کی زمین دیکھ لے گی کہ یہ خون کیسے کیسے پھل لائے گا یہ خون کبھی ضائع نہیں جائے گا۔پہلے اس سے غریب عبدالرحمن میری جماعت کا ظلم سے مارا گیا اور خدا چپ رہا مگر اس خون پر اب وہ چپ نہیں رہے گا اور بڑے بڑے نتائج ظاہر ہوں گے۔۔ہائے اس نادان امیر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بے دردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا۔اے کا بل کی زمین تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔اے بد قسمت زمین تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے (۸۹) اس عظیم الشان پیشگوئی میں ایک تو امیر حبیب اللہ خان کے متعلق ظلم کی پاداش کا ذکر ہے۔یہ پیشگوئی 1919 ء میں پوری ہوئی جیسا کہ پہلے مفصل ذکر آچکا ہے امیر حبیب اللہ خان پغمان کے علاقہ میں جہاں وہ سیر و تفریح کے لئے گیا ہوا تھا اور رات کو اپنے خیمہ میں اپنی بڑی بیگم معروف بہ علیا حضرت کے ساتھ محو استراحت تھا کہ کسی نامعلوم قاتل نے اس کے سر پر