شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 327 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 327

327 پستول کا فائر کر کے اس کو قتل کر دیا۔بہت تحقیقات کی گئی لیکن اس کا اصل قاتل ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا اگر چہ بہت سے لوگوں پر شبہات کئے گئے اور بعض لوگوں کو سزائیں بھی دی گئیں لیکن یقینی طور پر کسی پر جرم ثابت نہیں ہو سکا مسبب الاسباب خدا نے ” ظالم کا پاداش“ والی پیشگوئی کے پورا کرنے کے اسباب اپنی جانب سے پیدا فرما دیے۔اور ظالم امیر کو بغیر سزا کے نہیں چھوڑا فاعتبروايا اولی الابصار دوسرا واقعہ ظلم کی پاداش کا امیر حبیب اللہ خان کے چھوٹے بھائی سردار نصر اللہ خان سے تعلق رکھتا ہے جو حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب سے شدید دشمنی رکھتا تھا اور دراصل اسی کی کوشش اور تگ و دو سے امیر حبیب اللہ خان ان کو سنگسار کرنے پر راضی ہوا تھا۔اس کی گرفتاری اور قتل کا ذکر پہلے مفصل آچکا ہے۔امیر حبیب اللہ خان کے قتل ہونے کے بعد اس نے جلال آباد کے علاقہ میں دربار منعقد کیا اور حاضر درباریوں اور افسران کی موجودگی میں سردار نصر اللہ خان کی بادشاہت کا اعلان کیا گیا حالانکہ ولی عہد سردار عنایت اللہ خان موجود تھا لیکن اس کا حق سردار نصر اللہ خان نے غصب کر لیا اور اسے محروم کر کے خود بادشاہ بن بیٹھا لیکن اس کی بادشاہت چند دن رہی امیر امان اللہ خان کو کابل میں بادشاہ بنایا گیا اور فوج اور سرداران کی اکثریت کی امداد سے حاصل ہو گئی۔اس پر امان اللہ خان نے ایک اعلان کے ذریعہ سردار نصر اللہ خان سے اس کی دستبرداری کا مطالبہ کیا اور اس کو اور اس کے حامی سرداروں کے متعلق حکم جاری کیا کہ انہیں پابجولان کا بل لایا جائے۔سردار نصر اللہ خان اس حکم کی تعمیل پر مجبور ہوا۔جب سردار نصر اللہ خان کا بل لا یا گیا تو اس کو تو ایک برج میں جوارک کے پاس تھا قید کر دیا گیا اور اس کے ساتھیوں مثلاً مستوفی الملک مرزا محمد حسین برگیڈئیر کو قتل کروا دیا گیا اور اس کی تمام جائیداد ضبط کر لی گئی۔مرزا محمد حسین وہ شخص تھا جس کو حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف نے اپنی گرفتاری سے قبل ایک تبلیغی خط لکھا تھا لیکن اس نے دنیا کو ترجیح دی اور حق کے قبول کرنے کی توفیق اس کو نہ ملی۔سردار نصر اللہ خان کچھ عرصہ قید رہا۔