شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 318
318 لڑائی کچھ دن جاری رہی اس دوران میں سرکاری فوجوں نے جوابی حملے کر کے بہت سے مقامات کو سقاویوں سے واپس چھین لیا اور اب زیادہ تر لڑائی کابل سے نسبتاً دور کچھ فاصلے پر ہورہی تھی امیر امان اللہ خان کی گورنمنٹ نے تمام حالات کا جائزہ لے کر کاظم پاشا ترکی جرنیل کے مشورہ سے سقاویوں پر ایک حملے کا پروگرام بنایا۔تمام فوج جو کابل یا اس کے نواح میں موجود تھی اس کا کمانڈر محمد عمر خان سور جرنیل کو بنایا گیا جو شمالی سمت کا باشندہ تھا اور ایک بہادر جرنیل مانا جاتا تھا۔یہ شخص نہایت ظالم اور راشی تھا اور ان جرموں میں کئی مرتبہ ماخوذ بھی ہو چکا تھا اسے قید خانہ سے نکال کر یہ کمان دی گئی تھی۔محمد عمر خان فوج لے کر باہر نکلا اور قریباً دس میل آگے نکل گیا۔اس فوج کو دیکھ کر بچہ سقاؤ بھی گھبرا گیا لیکن قدرت نے اس کی مدد کی شاہی فوج میں اختلاف پھیل گیا اس کی وجہ یہ تھی کہ محمد عمر خان سور جرنیل سمت جنوبی کی بغاوت میں سرکاری جرنیل تھا اور بغاوت کو رفع کرنے میں اس نے قبائلیوں پر کافی مظالم کئے تھے بالخصوص منگل قبیلہ کے لوگ اس کے مظالم کا خاص نشانہ بنے تھے۔ان کا محمد عمر خان سُور جرنیل سے جھگڑا ہو گیا اور بات تو تو میں میں سے بندوقوں تک جا پہنچی میدان جنگ میں اس جھگڑے کی خبر سن کر محمد ولی خان (جوسفر یورپ کے دوران بادشاه امان اللہ کا کا بل میں وکیل تھا ) موقعہ پر پہنچ گیا اور مشتعل فریقین کو سمجھا بجھا کر راضی کیا اور تنازع رفع ہو گیا لیکن ذہنوں پر اس کا اثر باقی رہا اسی جھگڑے میں سور جرنیل کو پاؤں پر گولی بھی لگ گئی۔اس روز رات کو بچہ سقاؤ کے بھائی حمید اللہ نے صرف پچاس آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر سرکاری فوج پر ہر چہار طرف سے شب خون مارا جو نہی شبخون پڑا سرکاری فوج کے ایک حصہ نے تو یہ سمجھا کہ باغی لشکر نے ان پر حملہ کر دیا ہے اور ایک حصہ لشکر نے یہ خیال کیا کہ ان کے اپنے قبائلی لشکر نے دن کے تنازع کا بدلہ لینے کے لئے حملہ کر دیا ہے بس پھر کیا تھا۔سرکاری فوج جو سردی کی وجہ سے آرام سے اپنے خیموں میں پڑی ہوئی تھی ایک عالم اضطراب میں خیموں سے باہر نکل آئی اور اندھیرے میں یہ جان کر کہ چاروں طرف گولیاں چل رہی ہیں