شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 313
313 شروع ہو گئے تھے کہ اس عرصہ میں یہ خبر آئی کہ باغی بچہ سقاؤ نے اکتوبر ۱۹۲۸ء کے آخر میں کابل پر حملہ کر دیا۔اگر چہ اس کو پسپا ہونا پڑا لیکن ایک باغی ڈاکو کا کا بل پر حملہ کرنا ہی اتنا اہم واقعہ تھا کہ جس سے افغانستان کی حکومت کی رہی سہی وقعت بھی باغیوں کی نظر سے جاتی رہی اور ان کا ایک حصہ بجائے سردار علی احمد جان کی بادشاہت کو تسلیم کرنے کے بچہ سقاؤ کے گن گانے لگا۔کیونکہ اب بچہ سقاؤ کا دعوئی خادمِ اسلام ہونے کا تھا اور وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشس کرتا تھا کہ وہ عام ڈاکو نہیں ہے بلکہ امیر امان اللہ خان کے خلاف مصروف جہاد ہے۔اس طرح شنواریوں کا رویہ بدل گیا اور سمت مشرقی کے دوسرے باغی بھی سردار علی احمد جان کا ساتھ چھوڑ گئے اور اس کو اپنی جان بچانے کے لئے پشاور کی طرف بھا گنا پڑا۔اسکے بعد سمت مشرقی کے ملاؤں اور قبائلیوں کا ایک حصہ بچہ سقاؤ کے ساتھ مل گیا۔افغانستان کے بڑے بڑے پیر اور ملا جن سے امیر امان اللہ خان کا واسطہ پڑا افغانستان کے مختلف علاقوں کے بڑے بڑے ملا اور پیر اب تک امیر امان اللہ خان کےخلاف ہو چکے تھے اور ذہنی طور پر ان لوگوں کے ہم آہنگ تھے جو امیر امان اللہ خان کو ہٹانا چاہتے تھے۔بڑے بڑے ملا جن سے امیر امان اللہ خان کا مختلف اوقات اور علاقوں میں واسطہ پڑا ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں۔(۱) ملا عبد اللہ ملائے لنگ اور اُس کا داماد ملا عبدالرشید انہوں نے امیر امان اللہ خان کے خلاف بغاوت منگل میں نمایاں حصہ لیا تھا۔امیر نے صلح کے بہانے ان کو سردار علی احمد جان کی معرفت و عدہ معافی دے کر کا بل بلا کر گرفتار کر والیا تھا اور بالآخر ان کو قتل کرا دیا تھا۔(۲) ملا صاحب چکنور جن کا تسبیح کے دانوں والا واقعہ پہلے گزر چکا ہے۔(۳) ملا صاحب شور بازار اور ان کے چھوٹے بھائی صاحبزادہ ملا شیر آ قا صاحب - ملا صاحب شور بازار کو امیر امان اللہ خان نے سمت جنوبی کی طرف بغاوت رفع کرنے کے لئے