شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 311
311 سے تنگ آئے ہوئے تھے اور اسے خلاف اسلام سمجھتے تھے وہ اس بغاوت پر بہت خوش ہوئے اور عواقب سے قطع نظر کر کے اسے سراہنے لگے۔امیر امان اللہ خان نے شنواریوں کی بغاوت فرو کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے متعد د سرداروں کو لشکر دے کر بھیجوایا چنانچہ باری باری آقائے شیر احمد خان میر زمان خان کری اور سردار محمود خان یاور کو بھجوایا لیکن بغاوت بڑھتی اور پھیلتی گئی۔باغیوں نے میر زمان خان کنری کو قتل کر دیا۔کیونکہ وہ ایک ظالم اور بددیانت شخص تھا اور شنواری اس کو خوب جانتے تھے کیونکہ وہ اسی علاقے کا رہنے والا تھا۔باغیوں نے جلال آباد پر حملہ کر کے اسے لوٹ لیا اور شہر کو آگ لگا دی اس تمام علاقہ میں طوائف الملو کی پھیل گئی عام طور پر لوٹ مار اور قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں شنواریوں کے علاوہ دیگر قبائل مثلاً صافی مومند اور آفریدی قبیلہ کے بعض لوگ بھی شامل ہو گئے۔اب جلال آباد، نملہ، پغمان وغیرہ کے علاقے باغیوں کے پاس تھے اور مرکزی حکومت کا کوئی کنٹرول ان پر نہیں تھا باغیوں کے پاس کافی لوٹا ہوا اسلحہ موجود تھا۔ایک بات قابل ذکر ہے کہ جب شنواریوں نے جلال آباد کو تباہ کیا تو امیر حبیب اللہ خان کے مقبرہ پر بھی حملہ آور ہوئے اور اس کی قبر کو سنگسار کیا۔امیر امان اللہ خان کو اس بغاوت کی وسعت اور تباہ کاری کا احساس ہوا اور ضرورت محسوس ہوئی کہ وسیع پیمانہ پر لشکر کشی کر کے کسی مناسب اور قابل سردار کو روانہ کیا جائے اس غرض کے لئے اس نے سردار علی احمد جان کو چنا۔اگر چہ امیر امان اللہ خان اور سردار علی احمد جان میں باہم نا راضگی تھی لیکن اس نازک موقعہ پر علیا حضرت یعنی امیر امان اللہ خان کی والدہ اور سردار علی احمد جان کی خوش دامن نے اصرار کر کے سردار علی احمد جان کو راضی کر لیا اور اس نے بغاوت فرو کرنے کا بیڑہ اٹھا یا وہ ایک لشکر لے کر روانہ ہوا اور آگے بڑھ کر جد لک مقام پر اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کر لیا اور باغیوں کے لیڈروں سے بات چیت شروع کر دی - باغی امیر امان اللہ خان کے وعدہ معافی پر ہتھیار ڈالنے کو تیار نہ ہوئے اس لئے کہ انہیں یہ علم تھا کہ امیر امان