شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 294 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 294

294 جماعت احمدیہ اور امیر امان اللہ خان شاہ افغانستان کے بارہ میں ہند و آریہ سماجی اخبار پر کاش کی غلط بیانی اور اس کی تردید اخبار الفضل مورخہ ۲۳ / دسمبر ۱۹۲۷ ء لکھتا ہے کہ ” جماعت احمدیہ کی طرف سے ہر میجسٹی شاہ کابل کا جو خلوص دل سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔اس کے متعلق نہ صرف ۱۶/ دسمبر کے الفضل میں نمایاں طور پر تار چھپ چکا ہے۔بلکہ لاہور کے سر بر آوردہ اخبارات ”زمیندار“ اور ”انقلاب‘ میں بھی اس کا ذکر آچکا ہے جس سے آریہ اخبار پر کاش کا ایڈیٹر نا واقف نہیں ہوسکتا لیکن ۱۸؍ دسمبر کے پر کاش میں لکھتا ہے: امیر کا بل سفر یورپ پر جاتے ہوئے ہندوستان سے گزرے۔ہندو مسلمان تمام لوگوں نے آپ کا خیر مقدم کیا۔لیکن احمدی جو ایسے موقعوں کی ہمیشہ تاک میں رہتے ہیں۔یہ امر موجب حیرت ہے کہ وہ خاموش رہے۔وہ نہ خود امیر کی خدمت میں حاضر ہوئے۔نہ خیر مقدم کا تا رہی ارسال کیا حالانکہ تار گھر قادیان میں موجود ہے۔وجہ صاف ہے قادیانیوں کا تو ایک مولوی افغانستان میں محض مذہبی اختلافات رائے کی وجہ سے۔سنگسار کیا گیا تھا۔بھلا قادیانی اس شخص کا خواہ وہ مسلمان ہی اور مقتدر مسلمان کیوں نہ ہو استقبال کیسے کر سکتے ہیں۔“ معلوم ہوتا ہے۔پرکاش نے دیدہ دانستہ یہ سطور ایک ناگوار اور رنج افزا واقعہ کی یاد تازہ کرنے اور اسے شہرت دینے کے لئے لکھی ہیں۔ورنہ جب جماعت احمدیہ کی طرف سے شاہ کا بل کے استقبال کی خبر اخباروں میں شائع ہو چکی ہے تو پر کاش کی غلط بیانی کی اور کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔”بے شک کابل میں ایک نہیں بلکہ کئی احمد یوں کو سنگسار کیا گیا ہے۔لیکن ہمارے نزدیک اس سنگدلانہ فعل کے ذمہ وار وہ مولوی اور مُلاں ہیں جن سے بیزاری کا اعلان حضور شاہ کا بل نے سرزمین ہند پر قدم رکھتے ہوئے سب سے اولین موقعہ پر کر دیا۔۔۔